امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ دھمکی پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں شدت آتی جا رہی ہے جہاں ایک دوسرے پر تابڑ توڑ لفظی حملے کیے جا رہے ہیں۔

اس بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت دھمکی پر جواب دینے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ اور سینئر ایرانی رہنما علی لاریجانی سامنے آئے ہیں۔

علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی عوام کے اصل قاتل خود امریکا اور اسرائیل کی قیادت ہے۔

علی لاریجانی نے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنے جواب میں مزید کہا کہ ایرانی عوام کے اصل قاتلوں کے نام یہ ہیں؛

1- ڈونلڈ ٹرمپ
2- نیتن یاہو

مزید پڑھیں

مدد پہنچنے والی ہے، ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھال لو؛ ٹرمپ کا ایران کے مظاہرین کو پیغام

ٹرمپ کا ایران کے اپوزیشن لیڈرز سے رابطوں کا دعویٰ؛ یہ رہنما کون ہیں؟

علی لاریجانی کا مزید کہنا تھا کہ انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والے ممالک خود سب سے بڑی انسانی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل برسوں سے ایران پر پابندیاں، دباؤ اور عدم استحکام مسلط کر کے عام شہریوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

یارہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج سوشل ٹروتھ پر اپنے بیان میں ایران میں مظاہرین کو اکساتے ہوئے کہا تھا کہ اداروں کا کنٹرول سنبھال لیں، مدد راستے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی عوام اپنے قاتلوں کے ناموں اور چہروں کو یاد رکھیں جن سے جواب لیا جائے گا۔

گو امریکی صدر نے نہیں بتایا کہ کس کی اور کون سی مدد راستے میں ہیں لیکن اس بیان کو پرانے بیان سے جوڑا جا رہا ہے جس میں انھوں نے ایران پر بڑے فوجی حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علی لاریجانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان