ایران پر حملہ یا مذاکرات؟ وائٹ ہاؤس میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی زیرِ قیادت وائٹ ہاؤس کے سینئر معاونین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل سفارتکاری کو موقع دیا جائے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردِعمل میں ایران پر حملے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، تاہم نائب صدر اور بعض اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ فوجی اقدام سے پہلے سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
ایک امریکی اخبار نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، اگرچہ اس وقت وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حق میں جھکاؤ رکھتے ہیں، لیکن ان کا مؤقف تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیںامریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی
کچھ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ پہلے محدود حملے کا حکم دے سکتے ہیں، جس کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی مبینہ پیشکش کا بھی جائزہ لے رہا تھا، تاہم اسی دوران صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری پر سنجیدگی سے غور کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔