ملتان میں قومی یکجہتی و پیغام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین رویت ہلال کمیٹی پاکستان کا کہنا تھا کہ ملک دشمن طاقتیں فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان پاکستان میں انتشار و عدم استحکام اوردہشت گردی پیدا کر کے لسانیت کے نام پر تقسیم کر کے ہماری قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں، ہمیں بیدار رہنا ہوگا، دشمن ملک کی تمام ناپاک سازشوں کو مل کر ناکام بنانا ہوگا۔  اسلام ٹائمز۔ ملتان میں قومی یکجہتی و پیغام پاکستان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت چیئرمین مرکزی ریت ہلال کمیٹی پاکستان، خطیب و امام بادشاہی مسجد مولانا سید محمد عبدالخبیرآزاد نے کی۔ اس موقع پرسی سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر، نمائندہ کمشنر ملتان کریم بخش،ڈپٹی کمشنر ملتان نعمان صدیق،تمام ڈپٹی کمشنر صاحبان و ڈی پی او صاحبان اور دیگر حضرات موجود تھے، کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے جید علما کرام و مشائخ عظام، ملتان ڈویژنل و ڈسٹرکٹ ممبران امن کمیٹی اور بہاولپوروڈی جی خان ڈویژن سے ممبران امن کمیٹی، منیجر اوقاف ملتان وسیم یوسف،زونل ایڈمنسٹریٹر ملتان رانا طارق اورمعروف سماجی شخصیات نے شرکت و خطاب کیا۔

کانفرنس سے مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز پاکستان اسلام اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا، پاکستان کا تحفظ پوری قوم کی ذمہ داری ہے، پاکستان کو اتحاد وحدت اورقومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے، آزادی اللہ تعالی کی نعمت عظمی ہے، جس پر ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں، جب ہمارے ازلی دشمن ہندوستان نے پاکستان پر بزدلانہ حملہ کیا تو وفاقی حکومت، وزیراعظم پاکستان، افواج پاکستان، تمام علما کرام اور پوری قوم نے متحد ہو کر دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا، فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف پر عالم اسلام کا اعتماد پاکستان سے محبت کی دلیل ہے، فتح معرکہ حق پوری امت مسلمہ کی جیت ہے۔

مولانا سید محمد عبدالخبیرآزاد نے کہا کہ آج یقینا دشمنوں کی نظر پاکستان پر ہے، ملک دشمن طاقتیں فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان پاکستان میں انتشار و عدم استحکام اور دہشت گردی پیدا کر کے لسانیت کے نام پر تقسیم کر کے ہماری قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں، ہمیں بیدار رہنا ہوگا، دشمن ملک کی تمام ناپاک سازشوں کو مل کر ناکام بنانا ہوگا، وطن عزیز پاکستان میں قیام امن کے لیے مذہبی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور پیغام پاکستان کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، پیغام پاکستان تمام علمائے کرام کا متفقہ فتوی اور بیانیہ ہے، جس میں دہشت گردی، ریاستی اداروں کے خلاف مسلح بغاوت اور خودکش حملوں کو حرام قرار دیا گیا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پیغام پاکستان قومی یکجہتی پاکستان کا

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد