دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کیلئےسچائی پر مبنی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیار ہے:ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
احمد منصور : ڈی جی آئی ایس پی آر سے این پی اے سی کی جی ایچ کیو میں ملاقات، قومی بیانیے کے فروغ کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی ، پاک افواج سے غیر متزلزل یکجہتی اور ریاست دشمن بیانیوں کے خلاف مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا ۔
این پی اے سی نے فتنۃ الخوارج اور افغان طالبان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قومی سلامتی کے امور میں یکسوئی اور بیانیے پر اتفاق رائے وقت کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
خوارج،ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے تناظر میں داخلی سلامتی پر جامع گفتگوسے مشترکہ مؤقف مزید مضبوط ہوا، کشمیر اور غزہ پر اصولی مؤقف کی توثیق کی گئی ، مظلوموں کی حمایت پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
این پی اے سی نے منبر و محراب سے اتحاد امت، سماجی ہم آہنگی اور آئینی برابری کا پیغام ملک گیر سطح پر پھیلانے کا اعلان کیا، ملاقات میں نفرت انگیزی، فرقہ واریت ،تکفیری بیانیے کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کیلئے عوامی شعور،سچائی پر مبنی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیار ہے۔
این پی اے سی نے ریاستی بیانیے کی ترویج کیلئے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی و رہنمائی نشستیں بڑھانے کی تجویز دی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملاقات کو غیر معمولی مفید قرار دیتے ہوئے کہا ملاقات سے اعتماد اور عملی تعاون کے نئے راستوں پر پیش رفت کی توقع ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا قائم مقام صدر ڈکلیئر کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔