سپر ٹیکس کیس کی سماعت، بزنس فرینڈلی پالیسیاں ہونی چاہئیں: آئینی عدالت
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق اہم کیسز کی سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ نجی کمپنی کے وکیل مرزا محمود خان نے مؤقف اختیار کیا کہ2010 ء سے قبل شیئر ہولڈر کمپنیوں پر اس نوعیت کا ٹیکس عائد نہیں تھا تاہم2010 ء کے بعد انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 37-A کے تحت سپر ٹیکس لگانا شروع کر دیا گیا۔ وکیل نے بتایا کہ سٹاک مارکیٹ سے منسلک سرمایہ کار بھاری ٹیکسوں کے باعث سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ سپر ٹیکس منافع پر لگایا جا رہا ہے لیکن عملی طور پر یہ ٹیکس مجموعی آمدن (گراس انکم) پر عائد کیا جا رہا ہے۔ اس وقت 10 فیصد سپر ٹیکس درحقیقت67 فیصد مجموعی ٹیکس کے برابر بن چکا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ بزنس فرینڈلی انویسٹمنٹ پالیسیاں بھی ہونی چاہئیں۔ وکیل مرزا محمود خان نے کہا کہ اتھارٹیز ایک بوٹی کے لیے پورا بکرا ذبح نہ کریں۔ اینگرو کمپنی کے وکیل خالد جاوید خان نے کہا کہ کرونا کے دوران ادویات بنانے والی کمپنیوں کے علاوہ تمام انڈسٹریز بند تھیں۔ اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دئیے کہ ماسک بنانے والی کمپنیاں تو اس دوران کام کر رہی تھیں۔ جواب دیا کہ جی، اسی طرح ٹیکسٹائل کی کچھ کمپنیاں بھی کام کر رہی تھیں۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اب ان کمپنیوں پر ٹیکس نہیں لگایا گیا جو کرونا کے دوران کام کرتی رہیں جبکہ باقی انڈسٹریز پر سپر ٹیکس عائد کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔