Juraat:
2026-07-24@04:20:25 GMT

بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

ریاض احمدچودھری

بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو میں حکومت نے 200 سے زائد گھروں کو مسمار کردیا، جس کے باعث سینکڑوں مسلمان خاندان بے گھر ہوگئے۔ریاستی حکومت کی جانب سے یہ انہدامی کارروائی رواں ہفتے کے آغاز میں 22 دسمبر کی صبح تقریباً 4 بجے فقیر کالونی اوروسیم لے آؤٹ (کوگیلو گاؤں) میں کی گئی، جس سے لگ بھگ 400 خاندان بے گھر ہو گئے۔ حکومت کی جانب سے یہ ظالمانہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب بنگلورو کو حالیہ برسوں کی شدید سردی کا سامنا ہے۔ بھارت میں ‘آئی لَو محمد ۖ’ کہنا بھی جرم بنا دیا گیا، بریلی میں پولیس مسلمانوں پر ٹوٹ پڑی۔ بنگلورو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ لمیٹڈ کی جانب سے کی گئی کارروائی کے دوران ہیوی مشینری اور سیکڑوں پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ مکانات ایک جھیل کے قریب، اردو گورنمنٹ اسکول سے متصل سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔ تاہم متاثرہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی پیشگی نوٹس نہیں دیا گیا اور پولیس نے زبردستی بے دخل کر دیا، جس کے باعث سیکڑوں افراد شدید سردی میں سڑکوں اور عارضی پناہ گاہوں میں رات گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ بعض رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ 25 برس سے اس علاقے میں مقیم تھے اور ان کے پاس آدھار کارڈ اور ووٹر آئی ڈی جیسی دستاویزات بھی موجود ہیں۔ بے دخل کیے گئے افراد میں اکثریت مہاجر مزدوروں کی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے جبکہ عالمی برادری خاموش ہے۔بی جے پی،آرایس ایس نے وادی کو ہندوریاست میں تبدیل کرنے کیلئے گٹھ جوڑ شروع کردیا۔مسلم کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کیلئے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔
بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست آسام کے ضلع سونیت پور میں حکام نے انسداد تجاوزات کی آڑ میں مسلمانوں کے تقریبا 1,200مکانات مسمارکردیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مسماری کی مہم تیز پور صدر اور ڈھکیاجولی کے علاقوں جموکٹول، ارماڑی، سیالیچار، باگھیٹاپو، گلاٹیڈوبی، لاٹھیماری، کنڈولیچار، پوربا ڈوبراماری اور بارہ ماڑی میں چلائی گئی جہاں مسلمانوں کو جان بوجھ کرنشانہ بنایا گیا۔حکام کا دعویٰ ہے کہ مسمار کیے گئے مکانات تجاوزات کرکے برہچاپوری وائلڈ لائف سینکچری کے اندربنائے گئے تھے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سینکچری کے اندر زمین پر فصلیں کاشت کی جا رہی تھیں۔ تاہم، متاثرہ خاندانوں نے ان دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ان کے آباو اجداد کئی دہائیوں سے اس خطے میں آبادتھے جن میں سے کچھ لوگوں نے دریائے برہم پترا میں کٹائو کی وجہ سے اپنی زمینیں کھوئی تھیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکام کے اقدامات ریاست میں مسلمانوں کو پسماندہ اور بے گھر کرنے کی وسیع تر اورمنظم کوششوں کا حصہ ہیں۔تجاوزات کے دعوئوں کے باوجود بے گھر ہونے والے خاندانوں کا استدلال ہے کہ تاریخی طورپر وہ علاقے کے باشندے ہیں اوران کے آباو اجداد بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے جو دریائے برہم پترا میں کٹائو کی وجہ سے بے گھر ہو گئے تھے۔
بے دخلی اورمسماری کی مہم کئی بارپر تشدد صورتحال کا رخ اختیارکرچکی ہے۔ ضلع گول پاڑہ میں کرشنائی کے علاقے ودیاپاڑہ میں پولیس نے احتجاج کرنے والے مسلم خاندانوں پر گولی چلائی جس میں ایک 19سالہ مسلم نوجوان جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہوگئے تھے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی کارکنوں نے آسام کی بے دخلی مہم میں مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔سابق فوجی سربراہان مودی حکومت پر برس پڑے، مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیوں کو دیکھتے ہوئے ملک میں امن خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے،پانچوں فوجی سربراہان نے خدشہ ظاہر کیا کہ مسلمانوں کونسل کشی کی دھمکیاں بھارت کو تباہ کرسکتی ہیں۔مودی حکومت کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ ملک میں امن کی خلاف ورزی سے دشمن بیرونی قوتوں کو حوصلہ ملے گا،دریں اثناریاست اترکھنڈ کی پولیس نے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور ان کی نسل کشی کرنے کے لیے اکسانے پر ہندو توا ‘دھرم سسند’ اجتماع کے منتظم یاتی نراسیمہانند سمیت 5افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ خط میں سرحدوں کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ تشدد کی اس طرح کی کالیں ملک کے اندر امن و ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے۔اس میں کہا گیا کہ ملک کے اندر امن کی کسی بھی خلاف ورزی سے دشمن بیرونی قوتوں کو حوصلہ ملے گا اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) اور پولیس فورس مذہبی بنیاد پر نفرت آمیز بیانات کی وجہ سے شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔خط میں کہا گیا کہ ‘ہم نفرت اور تشدد پر مبنی عوامی اظہار کو اکسانے کی اجازت نہیں دے سکتے، جو نہ صرف داخلی سلامتی کی سنگین خلاف ورزیوں کو تشکیل دیتا ہے بلکہ جو ہماری قوم کے سماجی تانے بانے کو بھی تباہ سکتا ہے۔خط میں کہا گیا کہ مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے اپنی فوج کو ہی حصہ لینے کے لیے دعوت دینا یہ ناقابل قبول اور قابل مذمت ہے۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو کی نسل کشی میں کہا گئے تھے کے لیے بے گھر گیا کہ

پڑھیں:

کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

کراچی:

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران چار ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا جبکہ ایک فرار ہونے والے مبینہ ڈاکو کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولیس اور چھیپا حکام کے مطابق اورنگی ٹاؤن تھانے کی حدود میں سیکٹر 8، اللہ والا کالج کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

زخمی ملزم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت سبیل کے نام سے ہوئی۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا۔

ادھر بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں کلفٹن، عبداللہ شاہ غازی مزار پل کے قریب مبینہ مقابلے کے دوران ایک مبینہ ڈاکو پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہو گیا، جس کی شناخت مانی کے نام سے ہوئی۔

اسے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس دوران فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دوسرے مبینہ ملزم کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ زخمی ملزم کی شناخت سکندر کے نام سے کی گئی۔

دوسری جانب شرافی گوٹھ پولیس نے کورنگی سنگر چورنگی کے قریب راڈو بیکری کے علاقے میں مبینہ مقابلے کے بعد ایک مبینہ ڈاکو اویس کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد ہوا۔

اسی طرح قائدآباد تھانے کی حدود میں لانڈھی شیر پاؤ کالونی، مولیٰ مدد قبرستان کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک اور مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

چھیپا حکام کے مطابق زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت وارث خان کے نام سے ہوئی۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار