میانمر نے روہنگیا مسلمانوں کی زندگیوں کو بھیانک خواب بنا دیا‘ گیمبیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) گیمبیا کے وزیر انصاف داؤدا جالو نے کہا ہے کہ میانمر نے نسل کشی کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کی زندگیوں کو ڈراؤنا خواب بنا دیا۔ گیمبیا کی جانب سے اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت میں ججوں کو بتایا گیا کہ میانمر نے نسل کشی کی اور اقلیتی روہنگیا مسلمانوں کو تباہی کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی زندگیوں کو جہنم بنادیا۔ روہنگیا عام لوگ تھے جو عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ گیمبیا کے وزیر انصاف داؤدا جالو نے آئی سی جے کے ججوں کو بتایا کہ میانمر کی فوج نے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور اس خون ریزی پر کسی کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔یہ پہلا نسل کشی کیس ہے جس کی بین الاقوامی عدالت انصاف مکمل سماعت کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔