آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے
بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا،مدارس پر دباؤ بیرونی ایجنڈا ہے جسے مسترد کرتے ہیں،سربراہ جے یو آئی کی گفتگو
جمعیت علمائے اسلام نے کہا ہے کہ آزمائشوں کیلئے تیار ہیں، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے۔مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے، صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی عیاری عیاں ہوگئی۔موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے ۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے عوامی ریفرنڈم کے حوالے سے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، نہیں معلوم کے اُن کا کیا فلسفہ ہے، موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ آئے جمعیت علماء اسلام ضرور سامنے آئیں گی۔ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کب تک اکٹھی رہ سکتی ہیں تو اِس پر مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اُن سے پوچھیں، بس گرتے پڑتے چل رہے ہیں آپس میں۔سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے جنرل سیکریٹری جے یو آئی لاہور حافظ عبدالرحمن سے ملاقات کی اور ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں مولانا فاضل عثمانی، مولانا مقصود الوری، حافظ زین العابدین، سلمان عارف، محمد شاہد و دیگر جماعتی ذمہ داران موجود تھے۔مولانا فضل الرحمن نے پارٹی رہنماء قاری محمد طاہر کی وفات پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے، مدارس پر دباؤ بیرونی ایجنڈا ہے جسے مسترد کرتے ہیں، حکمران دینی اداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں۔دریں اثنا ترجمان جے یو آئی نے کہا ہے کہ صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی عیاری عیاں ہو گئی، صدر مملکت کے آفس، پارلیمنٹ، سیاست دانوں اور جمہوریت کی توہین کی گئی، جمہوریت کے ٹھیکے داروں نے آئین اور جمہوریت کو مذاق بنا دیا۔ترجمان نے کہا کہ حکمرانوں نے چند روزہ اقتدار کے لئے آئین، اقدار اور جمہوریت کو زندہ درگور کردیا، شاید مستقبل میں آرڈیننس، ترامیم کے لیے پارلیمنٹ، دستخطوں کا تکلف ہی نہ کرنا پڑے۔ترجمان اسلم غوری نے کہا کہ جعلی اور جبری طریقے سے دی گئی اکثریت میں ایسا ہی ہوتا ہے، ن لیگ اور پی پی کے اقتدار کے شوق کی قیمت ہمیشہ عوام نے چکائی، حکومتی کارنامے ثابت کررہے ہیں کہ حکمران اپنی نوکری بچانے کی راہ پر گامزن ہیں، عوام کی کوئی فکر نہیں ، پارلیمنٹ کسی آرڈیننس فیکٹری کا منظر پیش کررہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: مولانا فضل جے یو ا ئی نے کہا کہ ا رڈیننس
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔