دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کیلئے عوامی شعور، سچائی پر مبنی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیار: ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) علماء کونسل کے وفد نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے ملاقات کی جس میں مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق جی ایچ کیو میں 13 جنوری2026 ء کو نیشنل پلیٹ فارم آف علماء کونسل (این پی اے سی)کے وفد نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے ملاقات کی، ملاقات میں قومی بیانیے کے فروغ، داخلی سلامتی اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران این پی اے سی نے پاک افواج کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ریاست دشمن بیانیوں، فتنہ الخوارج، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی اور واضح کیا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں یکسوئی، فکری ہم آہنگی اور متفقہ بیانیہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے فتنہ الخوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے تناظر میں داخلی سلامتی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر متحد مؤقف دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنا سکتا ہے۔ ملاقات میں کشمیر اور غزہ کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق کی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مظلوم اقوام کی حمایت پاکستان کی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔ این پی اے سی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ منبر و محراب کے ذریعے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی، آئینی برابری اور ریاستی بیانیے کا پیغام ملک بھر میں عام کیا جائے گا۔ دونوں فریقین نے نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری سوچ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر بھی اتفاق کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کیلئے عوامی شعور، سچائی پر مبنی معلومات اور مضبوط قومی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیار ہیں۔ این پی اے سی نے تجویز دی کہ ریاستی بیانیے کے فروغ کیلئے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی اور رہنمائی نشستوں میں اضافہ کیا جائے۔ ملاقات کو غیر معمولی طور پر مفید قرار دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اعتماد اور عملی تعاون کے نئے راستوں پر پیش رفت کی توقع ظاہر کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈی جی آئی ایس پی آر پی اے سی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔