وی ایکسکلوسیو: پی ٹی آئی میں مذاکرات کے حامی گروپ کی سوچ غالب آگئی، فواد چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر مذاکرات کے حامی گروپ کی سوچ غالب آ چکی ہے اور اب اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ انقلاب نہیں بلکہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں کون سا نقطۂ نظر غالب آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فواد چوہدری و دیگر کی سیاسی مذاکرات کے لیے کوششیں، پی ٹی آئی نے ’نمائشی ڈائیلاگ کمیٹی‘ قرار دیدیا
وی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی ڈیڈلاک کا شکار ہے اور اگر آئندہ چند ماہ میں سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہ ہوا تو پاکستان ایک طویل سیاسی انتشار میں داخل ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی دونوں اپنی اپنی طاقت آزما چکی ہیں مگر نہ حکومت عمران خان کی سیاسی حیثیت ختم کر سکی اور نہ ہی پی ٹی آئی کسی انقلابی تبدیلی میں کامیاب ہو سکی۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال ایک واضح ’اسٹیل میٹ‘ ہے۔ ان کے بقول اگر اس ڈیڈلاک کو برقرار رکھا گیا تو خیبرپختونخوا میں لانگ مارچ، اس کے نتیجے میں حکومتی سخت اقدامات، گورنر راج اور اسمبلیوں سے استعفوں جیسے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں، جس سے آنے والا ایک سال شدید سیاسی عدم استحکام کی نذر ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی قابل عمل راستہ موجود نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی درجۂ حرارت کم نہ کیا گیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: فواد چوہدری کی سیز فائر مہم اور اڈیالہ جیل کا بھڑکتا الاؤ
ان کے مطابق یہ فیصلہ حکومت، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ تینوں کو مل کر کرنا ہوگا کہ وہ ملک کو مسلسل تلخی میں رکھنا چاہتے ہیں یا سیاسی نظام کو معمول پر لانا چاہتے ہیں۔
فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اور انفارمیشن ونگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غیر ذمہ دارانہ بیانیے نے پارٹی اور عمران خان دونوں کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اپنے نام پر سرگرم پاکستان مخالف اور فوج مخالف اکاؤنٹس سے واضح لاتعلقی اختیار کرنے میں ناکام رہی، جس سے اعتماد سازی متاثر ہوئی۔
فواد چوہدری نے اعتراف کیا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کی ایک بڑی غلطی یہ تھی کہ اسٹیبلشمنٹ سے تمام روابط ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کا نقصان پارٹی، اس کی قیادت اور خود عمران خان کو ہوا۔
ان کے بقول اگر اس وقت بعض سینیئر رہنما بات چیت کے دروازے کھلے رکھتے تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔
انہوں نے موجودہ پی ٹی آئی قیادت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے بعد پارٹی کا منظم سیاسی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے اور فیصلہ سازی چند ایسے افراد کے ہاتھ میں آ گئی ہے جن کی عوامی اور سیاسی حیثیت محدود ہے۔ ان کے مطابق شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد اور دیگر رہنماؤں کی قربانیوں کے باوجود پارٹی کی فیصلہ سازی میں ان کا مؤثر کردار نظر نہیں آتا۔
مزید پڑھیں: ’یہ نہیں چاہتے کہ عمران خان باہر آئیں‘، فواد چوہدری نے ’عمران خان ریلیز کمیٹی‘ بنانے کا اعلان کردیا
9 مئی اور 8 فروری کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ان واقعات کو بار بار بنیاد بنا کر تلخیوں میں اضافہ مسئلے کا حل نہیں۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ تلخیاں کم کرنی ہیں یا بڑھانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماحول سازگار بنایا جائے تو 9 مئی اور انتخابی تنازعات جیسے معاملات پر معذرت اور مفاہمت ممکن ہے۔
فواد چوہدری نے زور دیا کہ سیاسی عدم استحکام کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑ رہا ہے جس سے متوسط اور نچلا طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق سرمایہ کاری، تعمیرات اور روزگار کے مواقع سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں، جبکہ خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں بھی داخلی سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: منی لانڈرنگ کو قانونی جواز فراہم کرنے والا پی ٹی آئی کا سیکریٹری جنرل ہے، فواد چوہدری کی سلمان اکرم راجا پر تنقید
فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی حقیقت ہے اور اسے نظرانداز کر کے نظام نہیں چلایا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے شدید اختلافات کے باوجود میثاقِ جمہوریت ممکن ہوا تھا اسی طرح اب ایک نئے سیاسی مفاہمتی عمل کی ضرورت ہے جس میں پی ٹی آئی کو بطور اہم فریق شامل کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی حکومت پی ٹی آئی مذاکرات سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی حکومت پی ٹی ا ئی مذاکرات سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری فواد چوہدری نے ان کے مطابق مذاکرات کے پی ٹی ا ئی نے کہا کہ پی ٹی آئی انہوں نے ہے اور
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز