پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر مذاکرات کے حامی گروپ کی سوچ غالب آ چکی ہے اور اب اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ انقلاب نہیں بلکہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں کون سا نقطۂ نظر غالب آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فواد چوہدری و دیگر کی سیاسی مذاکرات کے لیے کوششیں، پی ٹی آئی نے ’نمائشی ڈائیلاگ کمیٹی‘ قرار دیدیا

وی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی ڈیڈلاک کا شکار ہے اور اگر آئندہ چند ماہ میں سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہ ہوا تو پاکستان ایک طویل سیاسی انتشار میں داخل ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی دونوں اپنی اپنی طاقت آزما چکی ہیں مگر نہ حکومت عمران خان کی سیاسی حیثیت ختم کر سکی اور نہ ہی پی ٹی آئی کسی انقلابی تبدیلی میں کامیاب ہو سکی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال ایک واضح ’اسٹیل میٹ‘ ہے۔ ان کے بقول اگر اس ڈیڈلاک کو برقرار رکھا گیا تو خیبرپختونخوا میں لانگ مارچ، اس کے نتیجے میں حکومتی سخت اقدامات، گورنر راج اور اسمبلیوں سے استعفوں جیسے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں، جس سے آنے والا ایک سال شدید سیاسی عدم استحکام کی نذر ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی قابل عمل راستہ موجود نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی درجۂ حرارت کم نہ کیا گیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: فواد چوہدری کی سیز فائر مہم اور اڈیالہ جیل کا بھڑکتا الاؤ

ان کے مطابق یہ فیصلہ حکومت، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ تینوں کو مل کر کرنا ہوگا کہ وہ ملک کو مسلسل تلخی میں رکھنا چاہتے ہیں یا سیاسی نظام کو معمول پر لانا چاہتے ہیں۔

فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اور انفارمیشن ونگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غیر ذمہ دارانہ بیانیے نے پارٹی اور عمران خان دونوں کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اپنے نام پر سرگرم پاکستان مخالف اور فوج مخالف اکاؤنٹس سے واضح لاتعلقی اختیار کرنے میں ناکام رہی، جس سے اعتماد سازی متاثر ہوئی۔

فواد چوہدری نے اعتراف کیا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کی ایک بڑی غلطی یہ تھی کہ اسٹیبلشمنٹ سے تمام روابط ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کا نقصان پارٹی، اس کی قیادت اور خود عمران خان کو ہوا۔

ان کے بقول اگر اس وقت بعض سینیئر رہنما بات چیت کے دروازے کھلے رکھتے تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔

انہوں نے موجودہ پی ٹی آئی قیادت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے بعد پارٹی کا منظم سیاسی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے اور فیصلہ سازی چند ایسے افراد کے ہاتھ میں آ گئی ہے جن کی عوامی اور سیاسی حیثیت محدود ہے۔ ان کے مطابق شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد اور دیگر رہنماؤں کی قربانیوں کے باوجود پارٹی کی فیصلہ سازی میں ان کا مؤثر کردار نظر نہیں آتا۔

مزید پڑھیں: ’یہ نہیں چاہتے کہ عمران خان باہر آئیں‘، فواد چوہدری نے ’عمران خان ریلیز کمیٹی‘ بنانے کا اعلان کردیا

9 مئی اور 8 فروری کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ان واقعات کو بار بار بنیاد بنا کر تلخیوں میں اضافہ مسئلے کا حل نہیں۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ تلخیاں کم کرنی ہیں یا بڑھانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماحول سازگار بنایا جائے تو 9 مئی اور انتخابی تنازعات جیسے معاملات پر معذرت اور مفاہمت ممکن ہے۔

فواد چوہدری نے زور دیا کہ سیاسی عدم استحکام کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑ رہا ہے جس سے متوسط اور نچلا طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق سرمایہ کاری، تعمیرات اور روزگار کے مواقع سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں، جبکہ خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں بھی داخلی سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیے: منی لانڈرنگ کو قانونی جواز فراہم کرنے والا پی ٹی آئی کا سیکریٹری جنرل ہے، فواد چوہدری کی سلمان اکرم راجا پر تنقید

فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی حقیقت ہے اور اسے نظرانداز کر کے نظام نہیں چلایا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے شدید اختلافات کے باوجود میثاقِ جمہوریت ممکن ہوا تھا اسی طرح اب ایک نئے سیاسی مفاہمتی عمل کی ضرورت ہے جس میں پی ٹی آئی کو بطور اہم فریق شامل کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی حکومت پی ٹی آئی مذاکرات سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی حکومت پی ٹی ا ئی مذاکرات سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری فواد چوہدری نے ان کے مطابق مذاکرات کے پی ٹی ا ئی نے کہا کہ پی ٹی آئی انہوں نے ہے اور

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان