امریکا کی ایران کو دھمکی!
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشن پر غور کر رہے ہیں، ہماری فوج بھی اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے، ہم اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں، دنیا انتظار کر سکتی ہے اور اندازہ لگا سکتی ہے، اس حوالے سے سینئر امریکی حکام منگل کے دن صدر ٹرمپ کو ممکنہ حکمت عملی پر بریفنگ دینے والے ہیں۔ اتوار کو ائر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے پاس چند بہت مضبوط راستے موجود ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایران سے نکل جائیں۔ ادھرایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے ظالم حکمران عروج اور غرور کے نشے میں ہی اپنے زوال کی بنیاد رکھ دیتے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ شدید غرور میں مبتلا ہیں، اور تاریخ گواہ ہے کہ طاقت اور تکبر کے زعم میں مبتلا حکمران زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے۔ صدر ٹرمپ کا انجام بھی فرعون اور نمرود جیسے ظالم حکمرانوں جیسا ہوگا، جنہیں تاریخ میں عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ ایران کے موجودہ حالات کے تناظر میں خوش آئند امر یہ ہے کہ امریکی دھمکیوں کے بعد پیر کے روز ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، عوام نے اپنی وطن کے دفاع اور سلامتی کے لیے ہر قربانی دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تہران سمیت مختلف صوبوں میں عوام کے مختلف طبقات نے غیر ملکی حمایت یافتہ ہنگاموں اور دہشت گردی کے خلاف ملک گیر ریلیوں میں شرکت کی اور اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے نظام اور قیادت سے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ بلاشبہ یہ ملک گیر مظاہرے دشمن کی جانب سے انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی سازشوں کے مقابلے میں قومی اتحاد ویکجہتی اور یگانگت کا مظہر ثابت ہوئے۔ ریلی میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ کرائے کے عناصر اور دہشت گردوں کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ ایران میں ہونے والے مظاہرے ایران کا اندرونی معاملہ ہے پوری دنیا میں عوام اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، احتجاج اور مظاہرے کرتے ہیں جو ان کا جمہوری حق ہے، گزشتہ ماہ خود امریکا میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کیے، مگر ایران کے مظاہروں کو جنگ کا جواز قرار دینا کسی بھی طور بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انقلابِ ایران کے بعد امریکا اور مغربی طاقتوں کی نظر میں ایرانی قیادت کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے، امریکا ایران کو اپنے اور اسرائیل کے مفادات اور خطے میں طاقت کے توازن کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی پالیسی دباؤ، پابندیوں اور ایران کو عالمی برادری میں مکمل طور پرتنہا کردینے کی ہے، ایران کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ امریکی بالادستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی وہ اسرائیل کو جائز ریاست سمجھتا ہے۔ ایران کا یہ جرم امریکا کے لیے ناقابل ِ معافی جرم بن گیا ہے، اسی لیے امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں عاید کی ہوئی ہیں، ایرانی اثاثے منجمد ہیں، غیر ملکی کمپنیوں کو ایران سے کاروباری سرگرمیوں سے روکا گیا ہے، امریکا کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آگئے تو اسرائیل کا ناجائز وجود جس کا وہ پشتیبان ہے خطرے سے دوچار ہو جائے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن برقرار نہیں رہ سکے گا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر ایران کے خلاف کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں، ایران پر باربار حملے کی دھمکیوں کے بعد اب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والے ممالک کے خلاف سخت معاشی اقدام کا بھی اعلان کر دیا ہے، کہتے ہیں کہ ایران سے تجارت کرنے والے تمام ممالک پر 25 فی صد ٹیرف عائد کیا جائے گا، ان کے مطابق امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایسے سخت فیصلے کرنے سے گریز نہیں کرے گا اور تمام ممالک کو امریکی پالیسیوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ امریکی صدر کا یہ بیان کس قدر سفاکانہ ہے کہ تمام ممالک کو امریکی پالیسیوں کا خیال رکھنا ہوگا، چاہیے وہ خود بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا خیال نہ رکھیں۔ امریکی صدر آج طاقت کے نشے میں جس لب و لہجے کا اظہار کر رہے ہیں مہذب دنیا کو کسی طور اس کی تائید و حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ امریکی صدر کا طرز عمل دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرے گا۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کو بین الاقوامی قوانین کے پاسداری اور بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے جرأت مندانہ موقف اختیار کرنا ہو گا، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول دنیا میں قیامِ امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر ایران کے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم