مدد پہنچنے والی ہے، ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھال لو؛ ٹرمپ کا ایران کے مظاہرین کو پیغام
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاجات کے دوران پہلی بار ایرانی عوام کے نام براہِ راست پیغام جاری کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے یہ پیغام اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری کیا ہے۔
صدر ٹرمپ بہت واضح انداز میں کہا کہ ایران کے محب الوطنوں، احتجاج جاری رکھو، ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھال لو، مدد راستے میں ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام محفوظ رکھو، انھیں جلد اپنے جرائم کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
اسی بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکراتی اجلاس منسوخ کر دیے گئے ہیں جب تک کہ ایرانی حکومت مظاہرین کا قتلِ عام بند نہیں کردیتی۔
مزید پڑھیںشرپسندوں کے گھروں سے امریکی ہتھیار اور دھماکا خیز مواد پکڑا گیا؛ ایران
امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی
ایران میں کریک ڈاؤن میں 648 ہلاکتیں ہوگئیں؛ انسانی حقوق کی تنظیم
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/115888317758045915
خیال رہے کہ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ مظاہرین میں شامل شرپسندوں سے امریکی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بیرون ملک سے آنے والی ایسی کالز بھی ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں پولیس اور مظاہرین پر فائرنگ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
ایران میں 28 دسمبر سے جاری ملک گیر احتجاج میں شدت آگئی ہیں جہاں ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے متضاد پریشان کن اطلاعات ہیں۔
ایسے میں امریکی صدر پہلے ہی دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مزید مظاہرین کی ہلاکتیں ہوئیں تو وہ ایران پر بڑا فوجی حملہ کردیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی صدر
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔