Islam Times:
2026-06-02@22:08:22 GMT

ایران، احتجاجی تحریک کا انجام کیا ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

ایران، احتجاجی تحریک کا انجام کیا ہوگا؟

اسلام ٹائمز:رضا پہلوی اور ٹرمپ مل کر کام تو کر رہے ہیں، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایران ایک بار پھر تاج اور تخت کی طرف لوٹنے کیلئے تیار نہیں۔ اگر مغربی پروپیگنڈے کو درست مان بھی لیا جائے کہ عوام انقلاب سے بیزار ہو چکے ہیں، تو بھی عوام کا ہدف بادشادہت نہیں، جس سے ایرانی عوام بڑی قربانیوں کے بعد نجات حاصل کی۔ شاہ کے دور میں ایران ایک مسلم ملک نہیں، بلکہ مغرب کی عیاشی کا اڈا تھا، اور غیرت مند ایرانی قوم، اب ایران کو دوبارہ اس اندھیرے میں نہیں جانے دینا چاہتی۔ تحریر: تصور حسین شہزاد

ایران کے آخری شاہ محمد رضا پہلوی کے بیٹے رضا پہلوی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے وقت رضا پہلوی کی عمر محض 16 برس تھی، جب ان کے والد کی 40 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور ہزار سالہ بادشاہت کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اب 65 برس کی عمر میں، تقریباً نصف صدی بعد، وہ خود کو ایران کی موجودہ حکومت کیخلاف تحریک میں ایک نمایاں کردار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سی این این نے زمینی حقائق کے برعکس دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ہونیوالے احتجاجی مظاہروں کے دوران “یہ آخری جنگ ہے، پہلوی واپس آئے گا” جیسے نعرے سنائی دیئے۔ بعض مظاہرین نے “بادشاہ زندہ باد” جیسے الفاظ بھی دہرائے۔ سی این این شائد یہ بھول گیا کہ ایران کے اندر ایسے نعرے سماجی طور پر انتہائی ناپسندیدہ ہیں، عوام شاہ سے شدید نفرت کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ یہ نعرے لگے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ایرانی عوام واقعی بادشاہت کی بحالی چاہتے ہیں؟ تو اس کا جواب ہے نہیں، کیونکہ موجودہ رجیم کیخلاف اگر مظاہرے میں 50 افراد شریک ہوتے ہیں، تو موجودہ سسٹم کے حق میں ہونیوالے مظاہروں میں 50 ہزار افراد شریک ہو کر رہبراعلیٰ کی حمایت کرتے ہیں۔ رضا پہلوی نے حالیہ برسوں میں ایران میں اپنی واپسی کیلئے امریکی تعاون سے زمینہ سازی کی کوشش ضرور کی ہے، لیکن وہ کسی طور ایرانی عوام کی متفقہ یا متحد کرنے والی شخصیت نہیں بن سکے۔ ایران میں چند لوگ پہلوی کے حامی بھی ہیں اور سخت ناقد بھی، جو انہیں ماضی کی آمریت کی علامت سمجھتے ہیں۔ اور ماضی کی آمریت سمجھ کر ان سے نفرت کرنیوالوں کی تعداد زیادہ ہے۔

رضا پہلوی یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ اگر موجودہ حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو وہ عبوری دور میں قیادت کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ان کے پاس مستقبل کے سیاسی نظام، آئین یا اقتدار کی نوعیت کے حوالے سے واضح منصوبہ موجود نہیں۔ یہی ابہام اور عملی سیاسی تجربے کی کمی ان کی سب سے بڑی شکست ہے، جس کو دیکھتے ہوئے ایرانی عوام اس کی حمایت نہیں کرتے۔ یہ ایران میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پانچویں احتجاجی لہر ہے، جو مسلسل ناکامی سے دو چار ہو رہی ہے۔ رضا پہلوی اور ٹرمپ مل کر کام تو کر رہے ہیں، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایران ایک بار پھر تاج اور تخت کی طرف لوٹنے کیلئے تیار نہیں۔ اگر مغربی پروپیگنڈے کو درست مان بھی لیا جائے کہ عوام انقلاب سے بیزار ہو چکے ہیں، تو بھی عوام کا ہدف بادشادہت نہیں، جس سے ایرانی عوام بڑی قربانیوں کے بعد نجات حاصل کی۔ شاہ کے دور میں ایران ایک مسلم ملک نہیں، بلکہ مغرب کی عیاشی کا اڈا تھا، اور غیرت مند ایرانی قوم، اب ایران کو دوبارہ اس اندھیرے میں نہیں جانے دینا چاہتی۔

ایران میں جاری احتجاج کے تناظر میں یہ سوال ہے کہ آیا یہ مظاہرے اسلامی جمہوریہ کے خاتمے پر منتج ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ تو راقم کے خیال میں اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا اقتدار ختم بھی ہوتا ہے (جو کہ ممکن دکھائی نہیں دیتا) تو وہ 1979ء کے انقلاب جیسا منظر پیش نہیں کرے گا۔ استعماری قوتیں ایک بنیادی غلطی کر رہی ہیں۔ وہ اسلامی جمہوریہ کے ممکنہ خاتمے کو 1979ء کے انقلاب کے سانچے میں دیکھ رہی ہیں، حالانکہ آج کا ایران اس دور کے ایران سے بالکل مختلف ہے۔ دونوں ادوار کا تقابل کرنا ایرانی قوم کے مزاج سے ناواقفیت ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایک فردِ واحد کی حکومت نہیں، جیسا کہ شاہی نظام تھا، جسے انقلاب اسلامی نے ختم کیا۔ اگرچہ سید علی خامنہ ای حتمی اختیار رکھتے ہیں، لیکن نظام کے اندر طاقت کے کئی مراکز موجود ہیں۔ مختلف سیاسی دھڑے، ادارے اور مفادات ہیں، اور سید علی خامنہ ای ان سب کے درمیان توازن اور اتفاقِ رائے کے ذریعے حکومت کرتے ہیں۔ تمام دھڑے بالآخر انہی کے ذریعے گزرتے ہیں۔

شاہی نظام کے خاتمے سے پہلے بھی حالات یک دم نہیں بدلے تھے۔ 1977ء سے 1979ء تک تقریباً دو سال مسلسل احتجاج ہوئے، یہاں تک کہ عوامی دباؤ نے نظام کو مفلوج کر دیا۔ اس دوران شاہ فیصلہ سازی کی صلاحیت کھو چکا تھا اور وہ اپنا دفاع کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہا، یہاں تک کے شاہی محل کے چھوٹے ملازمین نے بھی انہیں تھپڑ رسید کئے اور اپنا غصہ نکالا۔ فروری 1979ء تک حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے جہاں واپسی ممکن نہیں رہی تھی۔ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں موجودہ نظام نے اب تک یہ اشارہ نہیں دیا کہ وہ اپنا دفاع کرنے سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ بلکہ وہ ان حالات میں مزید مضبوط نظر آ رہے ہیں۔ ریاستی مشینری متحرک ہے اور اپنا کردار مثبت اور موثر انداز میں ادا کر رہی ہے۔ ایک اور بڑا فرق اپوزیشن کی نوعیت کا ہے۔

1979ء میں شاہ مخالف تحریک نہ صرف منظم تھی بلکہ سخت نظم و ضبط کی پابند بھی تھی۔ آج کے ایران میں ایسی منظم اور متحد اپوزیشن موجود نہیں، جو کسی بڑے انقلابی نتیجے کی ضمانت بن سکے۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ کہنا مشکل ہے کہ موجودہ احتجاج کسی فوری انقلابی تبدیلی میں بدل جائے گا اور اگر استعماری سازشیں کامیاب ہوتی ہیں اور رجیم چینج ہو جاتا ہے تو بھی 1979 کی تاریخ دوہرانے کی بجائے ایران کا امن و امان تہس نہس ہو جائے گا اور ایرانی عوام اتنے باشعور ضرور ہیں کہ وہ شہداء کے وطن کو تباہ نہیں کریں گے۔ عوام سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ ان کا نجات دہندہ نہیں، بلکہ ٹرمپ کا ہدف ایران کے تیل کے ذخائر ہیں، اور ایرانی عوام وینزویلا کو اس کے سب سے بڑے ثبوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علی خامنہ ای ایرانی عوام رضا پہلوی ایران میں ایران ایک ایران کے کہ ایران رہے ہیں کے دور ہیں کہ

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان