Islam Times:
2026-07-24@05:01:06 GMT

ایران میں اقتدار کی تبدیلی، امکانات کیا ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

ایران میں اقتدار کی تبدیلی، امکانات کیا ہیں؟

اسلام ٹائمز: امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک جس بھونڈے انداز سے شرپسند عناصر پر افراتفری پھیلانے کے لئے سرمایہ کاری کر رہے ہیں، مجھے قوی امید ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان شاءاللہ، لاکھوں شہدا کے خون سے رونما ہونے والا اسلامی انقلاب برقرار رہے گا۔ یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ انقلاب اسلامی کے رونما ہونے کے بعد سے اسلام دشمن قوتیں سر توڑ کوشش کر رہی ہیں کہ ایران کا اسلامی نظام حکومت بدل کر ایک آزاد خیال سیکولر حکومت قائم کرکے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ تحریر: سید منیر حسین گیلانی
 
دنیا میں اس وقت جو افراتفری، انتشار اور بدامنی پھیلی ہوئی ہے، اس کے پیچھے دنیا کی بڑی طاقتوں کے کرتا دھرتا ہیں، جو اقتدار میں آنے سے پہلے اپنی انتخابی مہم میں عوام کو باور کراتے نہیں تھکتے تھے کہ وہ منتخب ہونے کے بعد دنیا میں جاری جنگوں کا خاتمہ کریںگے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے ساتھ یورپی ممالک سے لے کر فلسطین تک کے مسائل کو حل کرنے کی بات کرتے تھے۔ لیکن شومئی قسمت جب ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آگئے تو جنگوں کے خاتمے کی بجائے، انہوں نے جنگ کے میدان کو وسیع تر کر دیا، تاکہ اپنے مفادات حاصل کر سکیں۔ ٹرمپ نے فلسطین پر گرگٹ کی طرح رنگ بدلے، کبھی مذاکرات کی بات کرتا تو کبھی اسرائیل کے دفاع میں بیانات دیتا۔ کبھی نیتن یاہو کو ڈانٹتا تو کبھی اسرائیلی پارلیمنٹ میں کہتا کہ میں حماس کے خاتمے کیلئے اسرائیل کو جدید اسلحہ فراہم کروں گا۔

77 سال سے حل طلب مسئلہ فلسطین مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ امریکی صدر دہشت گردانہ سوچ کو غزہ کے علاقے میں پروان چڑھا کر اسرائیل کو اسلحہ اور وسائل دے کر انسانیت کا قتل کرکے اور انسانی آبادیوں کو تہہ و بالا کرتے ہوئے فخر یہ طور پر کہتا ہے کہ دیکھو میں جنگیں ختم کرنے آیا ہوں اور جنگیں ختم کر رہا ہوں جس میں وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چند دنوں کی فضائی جھڑپوں کو رکوا نے کا سہرا اپنے سر باندھ رہا ہے، کسی کو کیا پتہ ہے کہ اس کے ذہن میں مکاری اور توسیع پسندانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے جس میں وینزویلا کی حکومت کے خلاف جس طریقے سے آپریشن کیا گیا، ملک کے صدر اور اس کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ لے جایا گیا اور اب ان پر مقدمہ چلا یا جا رہا ہے۔

وینزویلا کی اس وقت کی صورتحال کے باعث چین اور روس، ایران کے قریب تر ہو گئے ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کو ناگوار گزرا۔ وینزویلا میں افراتفری پیدا کرنے کے بعد اسرائیل کی ایماپر ایران کے اندر ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو قابو سے باہر ہو۔ اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ پھر مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر فیک نیوز کے ذریعے بے بنیاد تصاویر اور ویڈیوز کو پھیلایا گیا کہ ایران کے اندر افراتفری پیدا ہو چکی ہے، جس کا مقصد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو اقتدار سے نکالنا اور اپنے من پسند حکمران یعنی 1979ء میں امام خمینیؒ کی قیادت میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں اقتدار سے علیحدہ کئے گئے، شاہ ایران کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی کو ایران کے تخت پر بٹھانا امریکہ اور اسرائیل اور یورپی ممالک کی پرانی خواہش ہے اور یہ کوشش ہر بار کی گئی مگر ناکام رہے۔

ان کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ 12 دن کی جنگ کے دوران بھی سوشل میڈیا اور استعماری میڈیا پر خبریں دی گئیں کہ وہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے امریکہ سے آ رہے ہیں۔ مگر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔ مہنگائی کی آڑ میں بدامنی پھیلا کر رجیم چینج کا جو نعرہ دیا گیا، اس میں متعدد افسوسناک واقعات رونما ہو چکے ہیں، مساجد، مزارات، بینکوں، ایمبولینسوں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔ معصوم لوگوں کو قتل کیا گیا۔ اس بدامنی میں امریکی اور اسرائیلی میڈیا کی جھوٹی خبروں سے پاکستانی میڈیا بھی متاثر ہوا اور آیت اللہ خامنہ ای کے روس فرار ہونے کی خبریں پھیلائی گئیں۔ بعد میں میڈیا نے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگی اور خبروں کو ویب سائیٹ سے ہٹا دیا۔

حیرت کی بات ہے کہ ہمارا میڈیا مغربی پراپیگنڈہ سے متاثر ہوکر خبریں نشر کرتا ہے، جس پر کچھ تکفیری عناصر بھی بغلیں بجاتے دکھائی دیئے کہ ایران آگ میں جل رہا ہے، مگر ہمارا میڈیا اسلامی جمہوری ایران کے ذرائع سے لی گئی خبریں چلانے میں جھجک محسوس کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بیرونی طاقتوں کے اشارے اور صیہونی حکومت کی چال بازیوں کی وجہ سے ایران کے اندر امن و امان کا مسئلہ پیدا تو ہوا ہے، لیکن اسلام کے سیاسی نظام  ”ولایت فقیہہ‘‘ کا خاتمہ ممکن نظر آ رہا اور نہ ہی اسے کوئی خطرہ ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک جس بھونڈے انداز سے شرپسند عناصر پر افراتفری پھیلانے کے لئے سرمایہ کاری کر رہے ہیں، مجھے قوی امید ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ انشاءاللہ، لاکھوں شہدا کے خون سے رونما ہونے والا اسلامی انقلاب برقرار رہے گا۔

یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ انقلاب اسلامی کے رونما ہونے کے بعد سے اسلام دشمن قوتیں سر توڑ کوشش کر رہی ہیں کہ ایران کا اسلامی نظام حکومت بدل کر ایک آزاد خیال سیکولر حکومت قائم کرکے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ مجھے ایران کو بڑا قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے اور میں اس نظام کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کرتا رہا ہوں۔ دنیا نے دیکھا کہ انقلاب کے ابتدائی دنوں میں ایرانی پارلیمنٹ کو اڑا دیا گیا، عراق کو شہہ دے کر ایران پر حملہ کروایا گیا اور پھر ایرانی علاقے طبس میں امریکی ہیلی کاپٹر اتار کر قیادت کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ بھی ناکام ہوئی۔ ہیلی کاپٹر تباہ ہوگیا۔

اگر کچھ قوتیں سمجھتی ہیں کہ ایرانی قوم اور ایرانی نظام، مہنگائی کے خلاف مظاہروں سے فزدہ ہو جائے گا تو وہ خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ میں یہ کوئی جذباتی بات نہیں کر رہا، بلکہ تربیت کی بات کر رہا ہوں کہ جس قوم نے ہزاروں سال پہلے کربلا دیکھا ہو، اور وہ کربلا کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتی ہو وہ موت سے خوفزدہ ہے اور نہ ہی ان بڑی طاقتوں کی گیدڑبھبکیوں سے ڈرتی ہے۔ ہاں معاشی مشکلات ضرور ہیں، وہ بھی امریکہ اور اس کے حواریوں کی اقتصادی پابندی کی وجہ سے قوم پر مسلط ہیں اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ مشکلات عارضی ہیں، پھر بڑی استعماری طاقتوں کے حکمران ایک اور ناکامی کا منہ دیکھتے ہوئے شرمندہ ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یورپی ممالک رونما ہونے اپنے مقاصد ایران کے کہ ایران رونما ہو کے بعد اور اس کی بات

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران