Express News:
2026-07-24@07:26:20 GMT

بنگلادیش کا معاملہ آئی سی سی کیلیے درد سر بن گیا

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے  بنگلادیش کا معاملہ آئی سی سی کے لیے دردسربن گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بنگلادیش کی جانب سے ورلڈکپ میچز کے لیے بھارت جانے سے انکار کا معاملہ آئی سی سی کیلیے دردسر بن گیا ہے، معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھتا ہوا دکھائی دینے لگا ہے۔

بنگلادیش کے مشیر کھیل آصف نظرل نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی سی سی کی سیکیورٹی ٹیم کی جانب سے موصول ہونے والے خط کے بعد 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلادیش ٹیم کے لیے بھارت جانا  ناممکن ہوگا۔

میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بھارت میں میچز نہ کھیلنے کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے، ہم نے آئی سی سی کو دو خطوط بھیجے اور اب دوسرے خط کے جواب کا انتظار کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک اہم بات یہ ہے کہ آئی سی سی کی سیکیورٹی ٹیم اور سیکیورٹی کے ذمہ داران نے ایک خط بھیجا ہے، اس میں تین چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو بنگلادیش ٹیم کے لیے خطرہ بڑھاسکتی ہیں۔

مشیر کھیل آصف نظرل نے وضاحت کی کہ خط مندرجات کے مطابق اگر مستفیض الرحمان ٹیم میں شامل ہوں یا بنگلادیشی شائقین قومی جرسی پہن کر اسٹیڈیم میں آئے تو صورتحال کشیدہ ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ جیسے جیسے انتخابات قریب آئیں گے وہاں بنگلادیش ٹیم کے لیے سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ خط واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ بھارت میں بنگلادیش کرکٹ ٹیم کے لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنا ممکن نہیں ہے۔

آصف نظرل نے کہا کہ اگر آئی سی سی یہ توقع رکھتا ہے کہ ہم اپنے بہترین بولر کے بغیر ٹیم بنائیں، شائقین ہماری جرسی نہ پہنیں اور ہم انتخابات کو موخر کریں تاکہ کرکٹ کھیل سکیں، تو یہ سب سے زیادہ غیر حقیقی اور ناممکن توقع ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں موجودہ سماجی اور کمیونٹی حالات اور گزشتہ 16 ماہ سے جاری بنگلادیش مخالف ماحول نے بنگلادیش کے بھارت میں کھیلنے کو ناممکن بنادیا ہے۔

آصف نے یقین دلایا کہ وہ آئی سی سی کی خط کاپی میڈیا کے ساتھ بھی شیئر کریں گے۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی سی سی نے بنگلادیش کے میچز بھارت میں ہی محفوظ شہروں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنگال ٹائیگرز نے موجودہ شیڈول کے تحت اپنے ابتدائی تین ورلڈکپ میچز کولکتہ جبکہ ایک میچ ممبئی میں کھیلنا ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ میچز چنئی اور تھرواننتاپورم منتقل کیے جائیں گے تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ نے وضاحت دی ہے کہ آئی سی سی نے بنگلادیش کے میچز کو منتقل کرنے کی ہدایت نہیں دی ہے۔

بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا کا کہنا تھا  کہ ہمیں کسی بھی میچ کے مقام میں تبدیلی کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے، ہمیں بنگلادیش کے میچز کو چنئی یا کسی اور شہر میں منتقل کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

دیواجیت سائیکیا کا کہنا ہے کہ فی الوقت ہمیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں، اگر کوئی ایسی ہدایت کی گئی تو اس کے مطابق انتظامات کریں گے۔

یاد رہے کہ موجودہ شیڈول میں بنگلادیش ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 7 فروری کو ویسٹ انڈیز، 9  فروری کو اٹلی اور 14 فروری کو انگلینڈ سے کولکتہ میں میچز کھیلنا ہیں جبکہ 17 فروری کو نیپال سے مقابلہ ممبئی میں شیڈول ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے کہ ا ئی سی سی میں بنگلادیش بنگلادیش ٹیم ا ئی سی سی کی بنگلادیش کے ٹیم کے لیے بھارت میں فروری کو گیا ہے کہا کہ

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی