بنگلادیش کا معاملہ آئی سی سی کیلیے درد سر بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے بنگلادیش کا معاملہ آئی سی سی کے لیے دردسربن گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بنگلادیش کی جانب سے ورلڈکپ میچز کے لیے بھارت جانے سے انکار کا معاملہ آئی سی سی کیلیے دردسر بن گیا ہے، معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھتا ہوا دکھائی دینے لگا ہے۔
بنگلادیش کے مشیر کھیل آصف نظرل نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی سی سی کی سیکیورٹی ٹیم کی جانب سے موصول ہونے والے خط کے بعد 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلادیش ٹیم کے لیے بھارت جانا ناممکن ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بھارت میں میچز نہ کھیلنے کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے، ہم نے آئی سی سی کو دو خطوط بھیجے اور اب دوسرے خط کے جواب کا انتظار کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک اہم بات یہ ہے کہ آئی سی سی کی سیکیورٹی ٹیم اور سیکیورٹی کے ذمہ داران نے ایک خط بھیجا ہے، اس میں تین چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو بنگلادیش ٹیم کے لیے خطرہ بڑھاسکتی ہیں۔
مشیر کھیل آصف نظرل نے وضاحت کی کہ خط مندرجات کے مطابق اگر مستفیض الرحمان ٹیم میں شامل ہوں یا بنگلادیشی شائقین قومی جرسی پہن کر اسٹیڈیم میں آئے تو صورتحال کشیدہ ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ جیسے جیسے انتخابات قریب آئیں گے وہاں بنگلادیش ٹیم کے لیے سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ خط واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ بھارت میں بنگلادیش کرکٹ ٹیم کے لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنا ممکن نہیں ہے۔
آصف نظرل نے کہا کہ اگر آئی سی سی یہ توقع رکھتا ہے کہ ہم اپنے بہترین بولر کے بغیر ٹیم بنائیں، شائقین ہماری جرسی نہ پہنیں اور ہم انتخابات کو موخر کریں تاکہ کرکٹ کھیل سکیں، تو یہ سب سے زیادہ غیر حقیقی اور ناممکن توقع ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں موجودہ سماجی اور کمیونٹی حالات اور گزشتہ 16 ماہ سے جاری بنگلادیش مخالف ماحول نے بنگلادیش کے بھارت میں کھیلنے کو ناممکن بنادیا ہے۔
آصف نے یقین دلایا کہ وہ آئی سی سی کی خط کاپی میڈیا کے ساتھ بھی شیئر کریں گے۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی سی سی نے بنگلادیش کے میچز بھارت میں ہی محفوظ شہروں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنگال ٹائیگرز نے موجودہ شیڈول کے تحت اپنے ابتدائی تین ورلڈکپ میچز کولکتہ جبکہ ایک میچ ممبئی میں کھیلنا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ میچز چنئی اور تھرواننتاپورم منتقل کیے جائیں گے تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ نے وضاحت دی ہے کہ آئی سی سی نے بنگلادیش کے میچز کو منتقل کرنے کی ہدایت نہیں دی ہے۔
بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی بھی میچ کے مقام میں تبدیلی کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے، ہمیں بنگلادیش کے میچز کو چنئی یا کسی اور شہر میں منتقل کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
دیواجیت سائیکیا کا کہنا ہے کہ فی الوقت ہمیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں، اگر کوئی ایسی ہدایت کی گئی تو اس کے مطابق انتظامات کریں گے۔
یاد رہے کہ موجودہ شیڈول میں بنگلادیش ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 7 فروری کو ویسٹ انڈیز، 9 فروری کو اٹلی اور 14 فروری کو انگلینڈ سے کولکتہ میں میچز کھیلنا ہیں جبکہ 17 فروری کو نیپال سے مقابلہ ممبئی میں شیڈول ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے کہ ا ئی سی سی میں بنگلادیش بنگلادیش ٹیم ا ئی سی سی کی بنگلادیش کے ٹیم کے لیے بھارت میں فروری کو گیا ہے کہا کہ
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب