data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سمندری تاریخ میں ایک غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے قرونِ وسطیٰ کے دور سے تعلق رکھنے والا ایک عظیم بحری جہاز دریافت کر لیا ہے، جسے اب تک کا سب سے بڑا تجارتی جہاز قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس دریافت نے 15ویں صدی میں شمالی یورپ میں ہونے والی بحری تجارت اور نقل و حمل کے نظام پر نئی روشنی ڈال دی ہے۔

یہ تاریخی جہاز ڈنمارک کے دارالحکومت کے ایک آبی راستے میں دریافت ہوا، جہاں کئی صدیوں سے یہ سمندر کی تہہ میں محفوظ تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ جہاز تقریباً 1410 عیسوی کے قریب تیار کیا گیا تھا اور اس کا سائز اور ساخت اس دور کی بحری انجینئرنگ کی غیر معمولی مثال پیش کرتی ہے۔ جہاز کی لمبائی تقریباً 28 میٹر، چوڑائی 9 میٹر اور اونچائی 6 میٹر کے قریب بتائی جا رہی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جہاز بھاری مقدار میں سامان لے جانے کے لیے بنایا گیا تھا اور اندازہ ہے کہ یہ تقریباً 300 ٹن تک کارگو لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس خصوصیت نے اسے اپنے دور کا ایک منفرد اور طاقتور تجارتی جہاز بنا دیا، جو مختلف خطوں کے درمیان روزمرہ استعمال کی اشیا کی ترسیل میں استعمال ہوتا ہوگا۔

بحری آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف تکنیکی اعتبار سے اہم ہے بلکہ اس سے قرونِ وسطیٰ کے معاشی اور تجارتی نظام کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس دور میں سمندری راستے تجارت کا بنیادی ذریعہ تھے اور اس طرح کے بڑے جہاز اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس زمانے میں بھی منظم اور وسیع پیمانے پر تجارت کی جاتی تھی۔

ماہرین کے مطابق جہاز کی مضبوط ساخت اور ڈیزائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے طویل سفر اور بھاری سامان کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ دریافت اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ شمالی یورپ میں بحری تجارت جدید دور سے کہیں پہلے ہی ترقی یافتہ شکل اختیار کر چکی تھی۔

ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ اس جہاز پر مزید تحقیق سے نہ صرف اس کی تیاری کے طریقوں کا پتا چلے گا بلکہ اس دور کے سماجی اور معاشی حالات کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ دریافت سمندری تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے اور مستقبل کی تحقیق کے لیے نئی راہیں کھولے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا