مونگ پھلی کھاتے وقت کی جانے والی غلطی، جو اصل فائدہ کم کردیتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
سردیوں کا موسم آتے ہی گلیوں اور بازاروں میں بھنی ہوئی مونگ پھلی کی خوشبو فضا کو معطر کردیتی ہے، مگر اس مقبول میوہ کو کھاتے وقت بیشتر لوگ ایک ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں جو اس کے اصل فائدے کو کم کر دیتی ہے۔
عام طور پر مونگ پھلی کا باریک سرخ چھلکا معدے کےلیے نقصان دہ سمجھ کر الگ کر دیا جاتا ہے، حالانکہ غذائی ماہرین کے مطابق حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کا یہی سرخ چھلکا اس کی اصل غذائیت کا مرکز ہوتا ہے۔ مونگ پھلی کو سستا، آسانی سے دستیاب اور توانائی سے بھرپور ہونے کے باعث ’’غریب آدمی کا بادام‘‘ بھی کہا جاتا ہے، لیکن اگر اس کا چھلکا اتار دیا جائے تو اس کے کئی اہم فوائد ضائع ہوجاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق مونگ پھلی کے سرخ چھلکے میں قدرتی فائبر، طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن ای، وٹامن بی 6، پولی فینولز اور فلیوونائڈز جیسے قیمتی غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ یہ عناصر جسم کو فری ریڈیکلز کے مضر اثرات سے بچاتے ہیں، قوتِ مدافعت کو بہتر بناتے ہیں اور عمر کے ساتھ آنے والی کمزوریوں کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
غذائی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مونگ پھلی کو اس کی قدرتی جھلی سمیت استعمال کرنا زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ جھلی خلیوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے، دل کی صحت کو بہتر بناتی ہے اور جسم میں توانائی کی سطح کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اس سرخ چھلکے میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے اور قبض جیسے عام مسائل سے بچاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ خون میں شوگر کی سطح کو اچانک بڑھنے سے روکتا ہے، جس کے باعث ذیابیطس کے مریض بھی احتیاط کے ساتھ محدود مقدار میں مونگ پھلی استعمال کر سکتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ مونگ پھلی صحت بخش غذا ہے، تاہم اس کا حد سے زیادہ استعمال گیس، اپھارے یا بدہضمی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے اعتدال کے ساتھ اس کا استعمال ضروری ہے۔ جن افراد کو مونگ پھلی سے الرجی ہو یا معدے کے سنگین مسائل لاحق ہوں، انہیں استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
سردیوں میں مونگ پھلی ایک مزیدار اور طاقت بخش اسنیک ثابت ہو سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ اسے درست طریقے سے کھایا جائے۔ اگلی بار جب آپ مونگ پھلی کھائیں تو اس کے سرخ چھلکے کو ضائع کرنے کے بجائے یاد رکھیں کہ اصل فائدہ اور غذائیت اسی میں چھپی ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مونگ پھلی
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔