WE News:
2026-06-02@23:42:02 GMT

بلاک چین ٹیکنالوجی، مستقبل کی شاہراہ

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

بلاک چین ٹیکنالوجی، مستقبل کی شاہراہ

بلاک چین محض ایک نئی ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ اعتماد، شفافیت اور رفتار پر مبنی ایک نیا معاشی و انتظامی فلسفہ ہے، جو مستقبل کی شاہراہ بننے کی پوری اہلیت رکھتا ہے، بلاک چین ایک غیر مرکزی (Decentralized)  اور ناقابلِ تبدیلی (Immutable) ڈیجیٹل کھاتہ ہے،  جس میں لین دین کو محفوظ انداز میں متعدد کمپیوٹروں پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

اس نظام میں ہر ٹرانزیکشن کرپٹوگرافی کے ذریعے وقت کی ترتیب سے جڑے ہوئے بلاکس میں محفوظ ہوتی ہے، جس کے بعد اس میں رد و بدل تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، یہی خصوصیت بلاک چین کو روایتی نظام سے ممتاز بناتی ہے جہاں ریکارڈ ایک مرکزی ادارے کے پاس ہوتا ہے اور انسانی مداخلت کرپشن اور بداعتمادی کو جنم دیتی ہے۔

پاکستانی معیشت اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے ان میں عدم شفافیت، کمزور دستاویزی نظام، ٹیکس چوری اور ادارہ جاتی بداعتمادی سرفہرست ہیں۔ ٹیکس نیٹ کا محدود ہونا، سرکاری خریداری میں بے ضابطگیاں اور سبسڈی یا امدادی پروگراموں میں شکایات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارا موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے۔

ایسے میں بلاک چین ٹیکنالوجی ایک مؤثر حل کے طور پر سامنے آئی ہے، اگر ٹیکس نظام، سرکاری ٹھیکے، زمینوں کے ریکارڈ اور فلاحی پروگرام بلاک چین پر منتقل کر دیے جائیں تو ہر لین دین شفاف ہو جائے گا، بدعنوانی کے امکانات کم ہوں گے اور ریاست و شہری کے درمیان اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں روزگار کا ایک بڑا ذریعہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار یعنی SMEs ہیں مگر یہی شعبہ سرمایہ، بینکنگ سہولتوں اور عالمی منڈی تک رسائی کے شدید مسائل کا شکار ہے بلاک چین کے ذریعے اسمارٹ کنٹریکٹس، ڈیجیٹل شناخت اور غیر روایتی فنانسنگ کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

اسمارٹ کنٹریکٹس کی بدولت کاروباری معاہدے خودکار، محفوظ اور شفاف ہو سکتے ہیں، جن میں کسی تیسرے فریق پر انحصار کم ہو جاتا ہے، یوں پاکستانی ایس ایم ایز براہِ راست عالمی خریداروں سے جُڑ سکتے ہیں، جو ملکی برآمدات اور روزگار میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

نوجوانوں کے لیے بھی بلاک چین غیر معمولی مواقع فراہم کرتی ہے، فری لانسنگ، آئی ٹی ایکسپورٹس اور ڈیجیٹل سروسز میں بلاک چین پر مبنی پلیٹ فارمز ادائیگیوں کو تیز، محفوظ اور کم لاگت بنا سکتے ہیں۔

ترسیلات زر کا شعبہ بھی اس ٹیکنالوجی سے نمایاں فائدہ اٹھا سکتا ہے، جہاں چند منٹوں میں کم خرچ پر رقوم کی منتقلی ممکن ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ریاست بروقت پالیسی سازی کرے اور غیر ضروری خوف یا ابہام کا شکار ہونے کے بجائے ٹیکنالوجی کو سمجھ کر آگے بڑھے، جیسا کہ اس وقت موجودہ حکومت اس پر کام کا آغاز کر چکی ہے اور مزید غور و خوص جاری ہے اس حوالے سے پاکستان کرپٹو کونسل کا قیام ایک مثبت اقدام ہے۔

بینکنگ اور مالیاتی نظم و نسق کے حوالے سے بلاک چین کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، روایتی بینکنگ نظام میں تاخیر، زیادہ فیس اور انسانی مداخلت نہ صرف اخراجات بڑھاتی ہے، بلکہ کرپشن کے خدشات موجود رہتے ہیں، بلاک چین پر مبنی نظام میں لین دین براہِ راست، تیز اور شفاف ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) اور بلاک چین بینکنگ ماڈلز پر کام ہو رہا ہے، اگر پاکستان بھی اس سمت میں سنجیدہ قدم اٹھاتا ہے تو منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس اور مالی بے ضابطگیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

یہ تاثر بھی درست نہیں کہ بلاک چین صرف کرپٹو کرنسی تک محدود ہے، بلکہ زمینوں کے ریکارڈ، تعلیمی اسناد کی تصدیق، ووٹنگ سسٹم میں شفافیت، صحت کے ریکارڈ، سپلائی چین مینجمنٹ اور حتیٰ کہ صحافت میں ڈیٹا کی تصدیق کے لیے بھی بلاک چین ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

کسی خبر یا دستاویز کو بلاک چین پر محفوظ کرنے سے اس کی صداقت اور اصل ہونے کا ثبوت فراہم کیا جا سکتا ہے، جو فیک نیوز کے دور میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

بلاک چین کوئی جادو کی  چھڑی نہیں جو تمام مسائل کو ایک دم حل کر دے، لیکن یہ اعتماد، شفافیت اور رفتار کی وہ مضبوط بنیاد ضرور فراہم کر سکتی ہے، جس کے بغیر جدید ڈیجیٹل معیشت کا تصور ممکن نہیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ بلاک چین آئے گی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم اسے خوف، افواہوں اور تاخیر کی نذر کرتے ہیں یا سمجھداری سے اپنا کر مستقبل کی شاہراہ پر قدم رکھتے ہیں۔

فیصلہ اگر بروقت اور دانشمندانہ ہوا تو بلاک چین پاکستان کے لیے محض ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ ایک نیا معاشی موقع ثابت ہو سکتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

راحیل نواز سواتی

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلاک چین پر سکتے ہیں سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان