بلوچستان کی زرعی صلاحیت نے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان میں لورالائی کا زیتون اب عالمی سطح پر اپنی اعلیٰ کوالٹی کے باعث پہچان حاصل کر چکا ہے۔
نیو یارک انٹرنیشنل اولیو آئل کمپیٹیشن میں بلوچستان کے ضلع لورالائی کے زیتون کی دھوم ہے۔
لورالائی اولیو آئل نے بین الاقوامی مقابلے میں سلور ایوارڈ جیت کر پاکستان کی عالمی پہچان میں مزید اضافہ کر دیا۔
خالص ایکسٹرا ورجن اولیو آئل معیار، ذائقے اور افادیت میں دنیا کے بہترین زیتون کے تیلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
لورالائی اولیو آئل کی عالمی سطح پر کامیابی نے نہ صرف بلوچستان کا نام روشن کیا بلکہ پاکستان کی زرعی برآمدات کے افق کو بھی وسیع کر دیا ہے۔
زیتون کی کاشت اور تیاری نے مقامی کسانوں کے لیے خوشحالی اور خود کفالت کی نئی راہیں ہموار کی ہیں۔
سینئر سائنٹیفک آفیسر، ڈاکٹر عبداللہ بلوچ کے مطابق اپر بلوچستان میں زیتون کی کامیاب کاشت اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ یہ خطہ عالمی معیار کی زرعی پیداوار دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
لورالائی اولیو آئل کی یہ کامیابی بلوچستان اور پورے پاکستان کے لیے باعثِ افتخار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اولیو آئل
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔