آسٹریلیا نے اسٹوڈنٹ ویزا کیلئے بھارت کو ’ہائیسٹ رسک کیٹیگری‘ میں شامل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آسٹریلیا نے بھارتی طلبہ کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق آسٹریلیا نے بھارت کو اسٹوڈنٹ ویزا کے لیے ’’ہائی رسک کیٹیگری‘‘ میں شامل کر دیا ہے۔ نئی درجہ بندی 8 جنوری 2026 سے نافذ ہو چکی ہے، جس کے تحت بھارت کو سادہ اسٹوڈنٹ ویزا فریم ورک (SSVF) میں ایویڈنس لیول 2 سے بڑھا کر ایویڈنس لیول 3 میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ معمول کے شیڈول سے ہٹ کر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئی درجہ بندی کے بعد بھارتی طلبہ کی مالی حیثیت، تعلیمی ریکارڈ اور انگریزی زبان کے ٹیسٹ کو پہلے سے کہیں زیادہ سختی سے جانچا جائے گا۔
اسٹوڈنٹ ویزا کے خواہشمند بھارتی طلبہ سے اضافی دستاویزات طلب کی جا سکتی ہیں، جبکہ بینک اسٹیٹمنٹس کی فوری تصدیق کے ساتھ مزید شواہد بھی مانگے جا سکتے ہیں۔ ویزا افسران کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ طلبہ کی اسناد کی تصدیق کے لیے تعلیمی اداروں سے براہِ راست رابطہ کریں۔
دوسری جانب آسٹریلیا کی بین الاقوامی تعلیمی ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو فل ہنی وُڈ نے جعلی ڈگریوں کے مسئلے کو تشویشناک اور سنگین قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹوڈنٹ ویزا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :