طلبہ کے ایک گروپ نے پاکستان کا پہلا اے آئی وکیل تیار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہر شعبہ ہائے زندگی میں آئے روز باصلاحیت افراد اپنا ٹیلنٹ سامنے لا رہے ہیں، پاکستان نوجوان نہ صرف ملکی بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ایسے ہی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے باصلاحیت نوجوان طلبہ کے ایک گروپ نے ملک کا پہلا اے آئی وکیل تیار کر لیا ہے، جس کو ماہرین ملک میں ایک انقلابی ایجاد کہہ رہے ہیں، یہ اے آئی وکیل قانونی شعبے میں جدت اور رفتار کی نئی مثال قائم کرے اور بطور لیگل اسسٹنٹ کام کرے گا۔وکلا ایپ میں تفصیلات دے کر صرف ایک کلک پر کیس کی دستاویزات تیارکرسکیں گے۔مصنوعی ذہانت کے وکیل ماڈیول کے ذریعہ قیام پاکستان یعنی 1947 سے لے کر 2025 تک کے ملکی عدالتی فیصلوں اور قوانین کی بنیاد پر درست اور جامع قانونی جوابات حاصل کر سکیں گے۔اس سہولت سے پرانے ڈیٹا بیس اور مہینوں کی ریسرچ کی ضرورت ختم ہو جائے گی، عدالتوں میں کیسز کے التوا کے مسائل میں بھی کمی آئے گی، ہفتوں کا کام منٹوں میں مکمل ہوگا۔ماہرین کے مطابق یہ مقامی قوانین پر مبنی ٹیکنالوجی نوجوان وکلا کو با اختیار بنانے کے ساتھ ساتھ انصاف کی فراہمی، شفافیت اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔