ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، بھارت نے پاکستانی پس منظر رکھنے والے 4امریکی کھلاڑیوں کا ویزا مستردکردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی(جسارت نیوز)بھارت ایک بار پھر کھیل میں سیاست لے آیا، پاکستانی پس منظر کی وجہ سے امریکا کی نمائندگی کرنے والے 4کرکٹرز کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے ویزا مسترد کر دیا۔رپورٹ کے مطابق بھارت نے امریکا کی نمائندگی کرنیوالے 4کرکٹرز کا ویز ا مسترد کیا ہے، ۔امریکا کی جانب سے کھیلنے والے فاسٹ بولر علی خان نے ویزا مسترد ہونے کا اعلان سوشل میڈیاپر کیا، علی خان کی سوشل میڈیا پوسٹ میں شایان جہانگیر بھی شامل ہیں۔ان دونوں کرکٹرز کے علاوہ احسان عادل اور محمد محسن کا بھی ویزا مسترد کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 7 فروری سے بھارت میں شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکی ٹیم پاکستان، بھارت، نمیبیا اور نیدرلینڈزکے ساتھ گروپ میں شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ویزا مسترد
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔