بھارت نے پاکستانی نژاد 4 امریکی کرکٹرز کے ویزے مسترد کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے امریکا کی نمائندگی کرنے والے کرکٹرز بھی بھارت کی نفرت انگیزی کا شکار ہوگئے، بھارت نے پاکستانی پس منظر رکھنے والے 4 کرکٹرز کا ویزا مسترد کردیا۔
رپورٹس کے مطابق چاروں کرکٹرز کا ویزا ان کے پاکستانی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے مسترد کیا گیا ہے۔
فاسٹ بولر علی خان نے سوشل میڈیا پر ویزا مسترد ہونے کا اعلان کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق احسان عادل اور محمد محسن کے ویزے بھی مسترد کر دیئے گیے ہیں۔
امریکا کے گروپ میں پاکستان، بھارت، نمیبیا اور نیدرلینڈز شامل ہیں۔ امریکا کا پہلا میچ بھارت کے خلاف 7 فروری کو ہے۔
گروپ اسٹیج میں امریکا کے 4 میں سے 3 میچز بھارت میں ہیں۔ امریکا کا بھارت کے خلاف ممبئی، نیدرلینڈز اور نمیبیا کے خلاف چنئی میں گروپ میچز شیڈول ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔