اایران میں مظاہروں کے دوران امریکی ساختہ اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد، انٹیلی جنس کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران میں جاری ملک گیر احتجاج کے دوران حالات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب امریکا بھی کھل کر منظرِ عام پر آ گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مظاہرین کی حمایت اور ایران پر ممکنہ حملے کی دھمکیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ نے خطے میں بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے، دوسری جانب ایران نے مظاہروں کے پیچھے بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کو امریکا اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔
تازہ پیشرفت میں ایرانی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے امریکی اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا ہے، یہ اسلحہ اور بارودی مواد شرپسند عناصر نے اپنے گھروں میں چھپا رکھا تھا اور انہیں بیرونِ ملک سے براہِ راست ہدایات موصول ہو رہی تھیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے پاس ایسی آڈیو ریکارڈنگز موجود ہیں جن میں بیرونِ ملک سے دہشت گرد ایجنٹس کو پولیس اور مظاہرین پر فائرنگ کے احکامات دیے جا رہے ہیں، انٹرنیٹ اسی وقت بند کیا گیا جب اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ تشدد پھیلانے کی ہدایات ملک سے باہر سے دی جا رہی ہیں، جن کا مقصد قتل و غارت اور بدامنی پھیلانا تھا۔
ایران اس سے قبل بھی امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ غیر ملکی ایجنٹس کے ذریعے احتجاج کو پرتشدد رخ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران سمیت مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران متعدد گاڑیاں اور عمارتیں نذرِ آتش کی گئیں جبکہ سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا فوجی آپشن آزمانا چاہتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے، یہ آپشن پہلے بھی آزمایا جا چکا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اب بھی مذاکرات کو دانشمندانہ راستہ سمجھتا ہے، مگر بعض طاقتیں امریکا کو اسرائیل کے مفادات کے لیے جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دفتر کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت اعلیٰ امریکی حکام صدر ٹرمپ کو سفارتی اور فوجی آپشنز پر بریفنگ دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران میں 28 دسمبر سے معاشی بدحالی، مہنگائی اور کرنسی کی شدید گراوٹ کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے اب حکومت مخالف تحریک کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز