کوئٹہ میں نسوار کی قیمت میں اچانک ہوشربا اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اشیائے خور و نوش اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں تو آپ نے اکثر سنا ہوگا، تاہم بلوچستان میں نسوار کے صارفین کے لیے ایک بری خبر اس وقت سامنے آئی جب نسوار کی قیمت میں یکدم بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں نسوار کی فی کلو قیمت میں اچانک 150 روپے تک اضافہ ہو گیا ہے، جس پر صارفین اور دکانداروں دونوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے نسوار فروخت کرنے والے تاجر نجیب اللہ نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نسوار کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کے مطابق فی کلو نسوار کی قیمت میں تقریباً 150 روپے اضافہ ہوا ہے، جبکہ 80 کلو وزنی نسوار کی بوری جو پہلے 34 سے 35 ہزار روپے میں دستیاب تھی، اب اس کی قیمت بڑھ کر 42 سے 43 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اس اچانک اضافے کی سب سے بڑی وجہ پاک افغان سرحد کی بار بار بندشیں ہیں، کیونکہ بڑی مقدار میں نسوار افغانستان سے بلوچستان درآمد کی جاتی ہے۔
نجیب اللہ کے مطابق بلوچستان میں نسوار کی 2 اقسام سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہیں، جن میں کالی نسوار اور سبز نسوار شامل ہیں۔ کالی نسوار پنجاب سے بلوچستان لائی جاتی ہے، جبکہ سبز نسوار افغانستان سے آتی ہے۔ بلوچستان میں سبز نسوار کا استعمال نسبتاً زیادہ ہے، اسی لیے سرحدی بندشوں کا اثر براہِ راست اس کی قیمتوں پر پڑا ہے۔
نسوار کے ایک صارف عبدالواحد نے بتایا کہ مہنگائی پہلے ہی عوام کی کمر توڑ چکی ہے اور اب نسوار جیسی عام استعمال کی چیز بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روزانہ استعمال کرنے والوں کے لیے یہ اضافہ کسی اضافی بوجھ سے کم نہیں اور حکومت کو چاہیے کہ سرحدی تجارت میں آسانی پیدا کرے تاکہ قیمتوں میں استحکام آئے۔
اگر نسوار بنانے کے عمل پر نظر ڈالی جائے تو یہ عموماً تمباکو کے پتے، چونا اور راکھ ملا کر تیار کی جاتی ہے۔ بعض جگہوں پر اس میں خوشبو یا ذائقے کے لیے دیگر اجزاء بھی شامل کیے جاتے ہیں۔
یہ اجزاء پیس کر مخصوص طریقے سے تیار کیے جاتے ہیں، جس کے بعد نسوار استعمال کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر نسوار گھریلو یا نیم صنعتی سطح پر بنائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کے معیار میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق نسوار کے استعمال کے سنگین جسمانی نقصانات ہیں۔ نسوار میں موجود نکوٹین منہ، دانتوں اور مسوڑھوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے اور منہ کے کینسر کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ دل کی بیماریوں، بلڈ پریشر اور معدے کے مسائل کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ لوگ اسے سگریٹ کا متبادل سمجھتے ہیں، لیکن نسوار صحت کے لیے اتنی ہی خطرناک ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نسوار کی قیمت قیمتوں میں میں نسوار جاتی ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
اسلام آباد: پاکستان میں سریے کی قیمت جمعرات 23 جولائی 2026 کو مجموعی طور پر مستحکم رہی، تاہم مختلف برانڈز اور گریڈز کے لحاظ سے معمولی فرق دیکھا گیا۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے جاری کردہ تازہ مارکیٹ اپ ڈیٹ کے مطابق ملک بھر میں سریے کی قیمت 258 روپے سے 265 روپے فی کلوگرام کے درمیان برقرار ہے۔
تعمیراتی ماہرین کے مطابق رہائشی اور کمرشل منصوبوں میں سب سے زیادہ گریڈ 40 اور گریڈ 60 سریا استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ مضبوطی اور معیار کے لحاظ سے موزوں تصور کیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں سریے کے تازہ ریٹس
سریے کا گریڈ قیمت (روپے فی کلوگرام)
گریڈ 40 260 روپے
گریڈ 60 265 روپے
مارکیٹ ریٹ 258 سے 265 روپے
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سریے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کئی عوامل سے متاثر ہوتا ہے، جن میں خام مال کی قیمت، بجلی اور گیس کے نرخ، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور تعمیراتی شعبے کی مجموعی طلب شامل ہیں۔
انہوں نے خریداروں اور بلڈرز کو مشورہ دیا ہے کہ بڑی مقدار میں سریا خریدنے سے قبل مقامی ڈیلرز سے تازہ نرخ ضرور معلوم کریں، کیونکہ مختلف شہروں، برانڈز اور مینوفیکچررز کے لحاظ سے قیمتوں میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔
تعمیراتی صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر خام مال یا توانائی کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی آتی ہے تو آئندہ دنوں میں پاکستان میں سریے کی قیمت بھی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنا ضروری ہے۔