رواں برس پاکستان اور بھارت کے کئی علاقوں میں موسمِ سرما غیر معمولی طور پر سخت رہا، میدانی علاقوں میں شدید سردی نے معمولاتِ زندگی متاثر کیے، تاہم اس کے برعکس پہاڑی خطوں میں برف باری کی مقدار نے ماہرین اور عوام دونوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم جیسے عظیم پہاڑی سلسلوں میں جہاں ہر سال بھاری برف باری ہوتی تھی، وہاں اس بار نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو مستقبل کے لیے خطرے کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق اس غیر متوقع تبدیلی کی بنیادی وجہ ایک اہم قدرتی فضائی نظام میں آنے والی کمزوری ہے، جسے مغربی خلل کہا جاتا ہے۔ یہ نظام عام طور پر بحیرہ روم، بحیرہ اسود اور بحیرہ قزوین سے نمی حاصل کر کے جنوبی ایشیا کی طرف بڑھتا ہے اور اپنے سفر کے دوران بحیرہ عرب سے بھی آبی بخارات سمیٹ لیتا ہے۔ جب یہ نمی سے بھرپور ہوائی نظام برصغیر میں داخل ہو کر بلند پہاڑی سلسلوں سے ٹکراتا ہے تو اس کی ہوا اوپر اٹھتی ہے اور نتیجتاً نمی جم کر برف یا بارش کی صورت میں برستی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کے باعث مغربی خلل کی سمت میں واضح تبدیلی آ چکی ہے۔ یہ نظام بتدریج شمال کی جانب سرک رہا ہے، جس کے نتیجے میں بحیرہ عرب سے حاصل ہونے والی نمی میں نمایاں کمی ہو گئی ہے۔ نمی کم ہونے کے باعث پہاڑی علاقوں میں وہ برف باری نہیں ہو پا رہی جو ماضی میں معمول کا حصہ سمجھی جاتی تھی۔

موسمیاتی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے کروڑوں افراد کا دارومدار انہی پہاڑی علاقوں سے نکلنے والے دریاؤں پر ہے، جنہیں زندگی بخشنے میں گلیشیئرز اور برف باری کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ پہلے ہی بڑھتے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور اگر برف باری میں بھی مستقل کمی ہو گئی تو مستقبل میں پانی کی قلت ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف موسم تک محدود نہیں بلکہ زراعت، توانائی، خوراک اور معیشت سب اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سنجیدگی سے لینا، آبی وسائل کے تحفظ پر فوری توجہ دینا اور ماحولیاتی پالیسیوں پر عملدرآمد ناگزیر ہو چکا ہے ورنہ آنے والی نسلوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک

فائل فوٹو۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ 

مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی