وزیر اعلیٰ کے پی بھارت، اسرائیل اور ٹی ٹی پی کو خوش کرنا چاہتے ہیں: فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی بھارت، اسرائیل اور ٹی ٹی پی کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اداروں کے خلاف بیانات دے کر ملک دشمنوں کو خوش کر رہے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ مطالبات مذاکرات سے منوائے جاتے ہیں، ریاست مخالف بیانات سے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مانتے ہیں کہ وفاق نے صوبے کو سو فیصد حصہ نہیں دیا لیکن جو دیا ہے وہ کہاں لگایا؟ ضم اضلاع میں ایک تھانا بھی بنایا گیا؟
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو تنقید کے بجائے وفاق سے سندھ کے لیے موٹر وے کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے کوریج کے لیے انتشار پھیلایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزیر اعلی فیصل کریم
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔