اسلام آباد ( ملک نجیب ) پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں دہشت گردانہ حملوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 699 حملے ہوئے، جن میں 1,034 افراد جاں بحق اور 1,366 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر روز تقریباً دو حملے ہوئے، اور دہشت گردوں نے ریاستی اداروں، عوام اور معیشت سب کو ہدف بنایا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے سب سے زیادہ نشانے پر رہے ۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں نے 455 حملے سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کیے، جس کے نتیجے میں 655 اہلکار شہید اور 873 زخمی ہوئے۔ کل حملوں کا 65 فیصد سے زائد حصہ فورسز کے خلاف رہا۔ دہشت گردوں کی پہلی ترجیح ریاستی رٹ کو کمزور کرنا رہی۔ عام شہریوں پر 44 حملوں میں 78 افراد جاں بحق اور 137 زخمی ہوئے۔ ریلوے ٹریکس اور ٹرینوں پر 16 حملوں میں 65 افراد جاں بحق اور 57 زخمی ہوئے، جس سے عوامی سفر اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ قبائلی عمائدین، مزدور اور سیاسی شخصیات بھی نشانے پر رہے ۔ امن کمیٹیوں اور قبائلی عمائدین پر 20 حملوں میں 42 افراد کو شہید کیا گیا۔ غیر بلوچ افراد اور مزدوروں پر 21 حملوں میں 64 افراد جاں بحق اور 49 زخمی ہوئے جبکہ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں پر 22 حملوں میں 32 افراد شہید اور 63 زخمی ہوئے۔ شیعہ اور سنی مذہبی رہنماؤں پر حملے ہوئے جس سے مذہبی ہم آہنگی متاثر ہوئی۔ 11 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوئے۔ ججز اور وکلا کو بھی نشانہ بنایا گیا، 2 حملوں میں 12 جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے۔ انسانی خدمت کرنے والے بھی محفوظ نہ رہے ۔ پولیو اور صحت کے کارکنوں پر 10 حملوں میں 10 افراد شہید اور ایک زخمی ہوا۔ صحافی بھی نشانے پر آئے جس سے انسانی خدمات انجام دینے والوں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہوا۔ گیس پائپ لائنز، بجلی اور موبائل ٹاورز پر حملے ہوئے اور تجارت و صنعت پر 24 حملے ہوئے، جس سے معیشت متاثر ہوئی۔ رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ 2025 دہشت گردی کے لحاظ سے انتہائی خونریز سال رہا، اور ریاست، عوام اور معیشت سب دہشت گردی کی زد میں رہے۔ رپورٹ میں جامع اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ آئندہ خطرات کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: افراد جاں بحق اور رپورٹ میں حملے ہوئے حملوں میں زخمی ہوئے گیا ہے

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق