چیٹ جی پی ٹی اب ملازمت کی تلاش میں بھی معاون ثابت ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی مستقبل میں ملازمت کے حصول کا ذریعہ بھی بننے جا رہا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی میں ایک نئے جاب فیچر کی آزمائش کی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد صارفین کو روزگار کے مواقع تلاش کرنے اور بہتر کیریئر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو عملی زندگی کے اہم شعبوں میں مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے ویب ورژن میں یہ نیا فیچر ابتدائی طور پر دیکھا گیا ہے، جو اوپن اے آئی کے حالیہ ہیلتھ ڈیش بورڈ کے بعد کمپنی کا ایک اور اہم منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جاب ڈیش بورڈ بھی ہیلتھ ڈیش بورڈ کی طرز پر سائیڈ بار میں شامل ہوگا، جہاں صارفین کو مختلف سہولیات تک براہ راست رسائی حاصل ہو سکے گی۔
اس نئے جاب فیچر کے تحت چیٹ جی پی ٹی صارفین کو سی وی اور کور لیٹر کو مؤثر اور پیشہ ورانہ انداز میں بہتر بنانے میں معاونت فراہم کرے گا، جبکہ موزوں ملازمتوں کی تلاش، مختلف جاب آفرز کا تقابلی جائزہ لینے اور کیریئر کے بہتر انتخاب میں بھی رہنمائی دے سکے گا۔
رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی اس سے قبل بھی ملازمت سے متعلق ایسے ٹولز پر تجربات کر چکی ہے، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر ان منصوبوں پر کام عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ اس بار دوبارہ آزمائش سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کمپنی اس فیچر کو زیادہ جامع اور عملی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
اوپن اے آئی کی جانب سے تاحال اس نئے جاب فیچر کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم رپورٹس میں اس کی آزمائش کو اس بات کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر مستقبل قریب میں یہ سہولت تمام صارفین کے لیے متعارف کرائی جا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی اوپن اے ا ئی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔