پاکستان کا آئندہ 3 برس میں اربوں ڈالرز کے بین الاقوامی بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حکومت پاکستان نے بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے اور عالمی کیپٹل مارکیٹ تک رسائی مضبوط بنانے کے لیے آئندہ 3 برس میں 2 ارب 75 کروڑ ڈالر مالیت کے بین الاقوامی بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت رواں ماہ کے اختتام یا فروری کے دوران ابتدائی طور پر 25 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز کے اجرا کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جس کے لیے مختلف مالی اور سفارتی سطحوں پر رابطے جاری ہیں۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پانڈا بانڈز کا اجرا چین کی مالی منڈی میں کیا جائے گا اور مرحلہ وار اس کی مالیت ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومتی حکمت عملی کے تحت نہ صرف چین بلکہ دیگر عالمی مالیاتی منڈیوں سے بھی فنانسنگ حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال تک بانڈز کا مجموعی حجم بڑھ کر ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جب کہ مالی سال 2027-28 میں عالمی مارکیٹ سے مزید ڈیڑھ ارب ڈالر کے بانڈز جاری کرنے کا امکان ہے۔ اس اقدام کا مقصد کمرشل بیرونی فنانسنگ میں بہتری لانا اور آئندہ برسوں میں فنانسنگ گیپ کو کم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ اسی طرح میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام اور مالی نظم و ضبط کے اقدامات نے حکومت کو عالمی منڈیوں سے نسبتاً بہتر شرائط پر قرض لینے کا موقع فراہم کیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بانڈز کا اجرا کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرے گا بلکہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیغام بھی ثابت ہوگا، تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ حاصل ہونے والی فنانسنگ کو پیداواری شعبوں میں استعمال کرنا ہی طویل المدتی معاشی استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔