آئی ایم ایف کے بغیر اور برآمدات پر منحصر معاشی گروتھ کیلئے 3 کمیٹیاں قائم WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد: (آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کے بغیر اور برآمدات پر منحصر معاشی گروتھ کیلئے 3 کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب معاشی گروتھ کیلئے قائم گورننس کمیٹی کے سربراہ ہیں، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال برآمدات میں اضافہ اور ایف بی آر کی ٹیکس آمدن بڑھانے سے متعلق کمیٹی کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) اہداف کے مطابق لیگل کمیٹی کی سربراہی کر رہے ہیں۔

وزارت منصوبہ بندی کی ورکنگ میں برآمدات بڑھانے کیلئے سنگین چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے، دستاویز میں ملک کی برآمدی کارکردگی کو متاثر کرنے والے اہم معاشی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے مطابق پاکستان کی برآمدی مسابقت مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔

وزارت پلاننگ رپورٹ میں مہنگی توانائی، پیچیدہ ٹیکس نظام ،پالیسی عدم تسلسل اور ریگولیٹری بوجھ برآمدات کیلئے بنیادی رکاوٹیں قرار دیا گیا، رپورٹ میں کہا گیا کہ توانائی کی بلند اور غیر مستحکم قیمتیں صنعتوں کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں، بجلی اور گیس کے نرخ خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہیں اور بار بار تبدیلی کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے،جس سے مینوفیکچرنگ، زرعی پراسیسنگ، معدنیات، ماہی گیری اور خدمات کے شعبے متاثر ہو رہے ہیں اور برآمدی آرڈرز دوسرے ممالک کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

دستاویز کے مطابق کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت بھی غیر معمولی طور پر زیادہ ہے جس کی وجہ پیچیدہ اور غیر مؤثر ٹیکس نظام، ٹیرف سٹرکچر، ایڈوانس انکم ٹیکس کٹوتیاں، سیلز ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر اور ورکنگ کیپٹل کا مسلسل پھنس جانا ہے، یہ مسائل خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کیلئے شدید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

دستاویز میں پالیسی کے عدم تسلسل کو سرمایہ کاری اور خریداروں کے اعتماد کیلئے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے، ٹیکس، توانائی نرخوں، ٹیرف ڈھانچے اور برآمدی مراعات میں تبدیلیاں جو اکثر کاروباری سال کے دوران کی جاتی ہیں، مستقبل کی منصوبہ بندی، پیداواری توسیع اور برآمدی آرڈر بکنگ کو متاثر کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ادارہ جاتی بکھراؤ اور ریگولیٹری بوجھ نے بھی برآمدی نظام کو کمزور کر دیا ہے، سستی مالی سہولتوں تک محدود رسائی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، برآمدی فنانس، انشورنس اور طویل المدتی قرضہ جاتی سہولیات ناکافی ہیں جبکہ بلند شرح سود، سخت شرائط اور لیکویڈیٹی مسائل ایس ایم ایز کو جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور توسیع سے روکتے ہیں۔ لاجسٹکس اور تجارتی سہولت کاری کی رکاوٹوں کو بھی رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجاویز فائنل کر لی گئی ہیں جن پر آئندہ ہفتے تک وزیراعظم کو بریفنگ دی جائے گی، حکومت نے 2035 تک 120 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق اگر 30-2029 تک 60 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف حاصل نہ کیا گیا تو پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا، 20 سیکٹرز کی برآمدات بڑھانے اور معیشت کو آئی ایم ایف کے بغیر چلانے کا روڈ میپ تیار کیا گیا ہے جبکہ برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کیلئے آئندہ چند برسوں میں 20 ارب ڈالر اضافے کی گنجائش موجود ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی آئینی عدالت کا ارشد شریف قتل کیس جلد نمٹانے کا عندیہ وفاقی آئینی عدالت کا ارشد شریف قتل کیس جلد نمٹانے کا عندیہ لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم کو بری کر دیا ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم جنگ بندی کے باوجود تین ماہ کے دوران غزہ میں 100 سے زائد بچے شہید ہوگئے، اقوام متحدہ کا خوفناک انکشاف پاکستان کی آبادی کے تناسب سے حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کے لیے سعودی حکومت سے رابطے جاری، لاہور کو بھی روٹ.

.. ‎قائم مقام صدر سے اطالوی سفیر کی ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: معاشی گروتھ کیلئے آئی ایم ایف کے کے بغیر

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف