سچ ہے کچھ فرمز ملک سے جا رہی ہیں، تسلیم کرنا ہوگا ٹیکس، انرجی قیمت زیادہ ہے: وزیر خزانہ WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد: (آئی پی ایس) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا ہے کہ کچھ کمپنیاں پاکستان سے جا رہی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ زیادہ ٹیکس اور انرجی کی بلند قیمتیں کاروبار کیلئے سنجیدہ مسائل ہیں۔

اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے، معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، نجی شعبے کو آگے آ کر معیشت میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کو منتقل کیا، تاکہ پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی کے عمل کو الگ کیا جا سکے، ایف بی آر کا فوکس ٹیکس وصولی پر ہے، رواں برس جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائیں گی، غیر بینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترسیلات زر پر مختلف لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں، گزشتہ سال 38ارب ڈالر کے ترسیلات زر آئے، رواں سال 41 ارب ڈالر ترسیلات زر آنے کی توقع ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی، 78 سال میں پہلی بار ٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال پر ڈیوٹیز کم کی جا رہی ہیں، ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا، موجودہ معاشی اصلاحات پاکستان کیلئے ایسٹ ایشیا مومنٹ ثابت ہوسکتی ہے، قرضوں کی ادائیگی خود کم نہیں ہوئی، ہم نے اقدامات کئے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ سچ ہے کہ کچھ کمپنیاں ملک سے جا رہی ہیں، ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ٹیکس یا توانائی کی قیمت زیادہ ہے تو یہ حقیقی مسائل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کئے گئے ہیں، سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے ہیں، یوٹیلیٹی سٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا، ان اداروں کو دی گئی سبسڈی میں کرپشن ہو رہی تھی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں، برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے، حکومت معاشی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صلاحیتوں کی کمی نہیں، عوام اور سرمائے کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے، پالیسی ساز، کاروباری طبقہ اور تعلیمی ماہرین معاشی اصلاحات کیلئے ایک پیج پر ہیں۔

محمد علی نے کہا کہ میکرو اور مائیکرو اشاریوں کے ساتھ بنیادی ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کی بھی ضرورت ہے، معاشی ترقی کے عمل میں خواتین کی شمولیت ضروری ہے، ماضی کی غلط معاشی حکمت عملی نے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی، نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی خرابیوں کودرست کرنے کا طریقہ ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصدر مملکت بحرین کے 4 روزہ سرکاری دورے پر منامہ پہنچ گئے صدر مملکت بحرین کے 4 روزہ سرکاری دورے پر منامہ پہنچ گئے ٹرمپ کا سپریم کورٹ کو ٹیرف کے معاملے پر انتباہ: فیصلہ خلاف آیا تو اربوں ڈالر کی ادائیگیاں ناممکن ہوں گی جنگ کے دوران پاکستان کے پاس تمام معلومات تھیں کہ ہمارا کون سا جہاز، طیارہ اور یونٹ کہاں ہے‘؟ بھارتی آرمی چیف کا اعتراف نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی مینمار کے وزیر خارجہ، ایچ ای یو تھان سوی سے گفتگو پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا پاکستان اورمراکش کے درمیان دفاعی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پردستخط کر دیئے گئے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: معاشی اصلاحات کا کہنا تھا کہ سے جا رہی ہیں کہا کہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن