اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کے بغیر اور برآمدات پر منحصر معاشی گروتھ کیلئے 3 کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب معاشی گروتھ کیلئے قائم گورننس کمیٹی کے سربراہ ہیں، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال برآمدات میں اضافہ اور ایف بی آر کی ٹیکس آمدن بڑھانے سے متعلق کمیٹی کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) اہداف کے مطابق لیگل کمیٹی کی سربراہی کر رہے ہیں۔

وزارت منصوبہ بندی کی ورکنگ میں برآمدات بڑھانے کیلئے سنگین چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے، دستاویز میں ملک کی برآمدی کارکردگی کو متاثر کرنے والے اہم معاشی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے مطابق پاکستان کی برآمدی مسابقت مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔

وزارت پلاننگ رپورٹ میں مہنگی توانائی، پیچیدہ ٹیکس نظام ،پالیسی عدم تسلسل اور ریگولیٹری بوجھ برآمدات کیلئے بنیادی رکاوٹیں قرار دیا گیا، رپورٹ میں کہا گیا کہ توانائی کی بلند اور غیر مستحکم قیمتیں صنعتوں کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں، بجلی اور گیس کے نرخ خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہیں اور بار بار تبدیلی کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے،جس سے مینوفیکچرنگ، زرعی پراسیسنگ، معدنیات، ماہی گیری اور خدمات کے شعبے متاثر ہو رہے ہیں اور برآمدی آرڈرز دوسرے ممالک کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

دستاویز کے مطابق کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت بھی غیر معمولی طور پر زیادہ ہے جس کی وجہ پیچیدہ اور غیر مؤثر ٹیکس نظام، ٹیرف سٹرکچر، ایڈوانس انکم ٹیکس کٹوتیاں، سیلز ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر اور ورکنگ کیپٹل کا مسلسل پھنس جانا ہے، یہ مسائل خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کیلئے شدید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

دستاویز میں پالیسی کے عدم تسلسل کو سرمایہ کاری اور خریداروں کے اعتماد کیلئے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے، ٹیکس، توانائی نرخوں، ٹیرف ڈھانچے اور برآمدی مراعات میں تبدیلیاں جو اکثر کاروباری سال کے دوران کی جاتی ہیں، مستقبل کی منصوبہ بندی، پیداواری توسیع اور برآمدی آرڈر بکنگ کو متاثر کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ادارہ جاتی بکھراؤ اور ریگولیٹری بوجھ نے بھی برآمدی نظام کو کمزور کر دیا ہے، سستی مالی سہولتوں تک محدود رسائی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، برآمدی فنانس، انشورنس اور طویل المدتی قرضہ جاتی سہولیات ناکافی ہیں جبکہ بلند شرح سود، سخت شرائط اور لیکویڈیٹی مسائل ایس ایم ایز کو جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور توسیع سے روکتے ہیں۔ لاجسٹکس اور تجارتی سہولت کاری کی رکاوٹوں کو بھی رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجاویز فائنل کر لی گئی ہیں جن پر آئندہ ہفتے تک وزیراعظم کو بریفنگ دی جائے گی، حکومت نے 2035 تک 120 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق اگر 30-2029 تک 60 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف حاصل نہ کیا گیا تو پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا، 20 سیکٹرز کی برآمدات بڑھانے اور معیشت کو آئی ایم ایف کے بغیر چلانے کا روڈ میپ تیار کیا گیا ہے جبکہ برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کیلئے آئندہ چند برسوں میں 20 ارب ڈالر اضافے کی گنجائش موجود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق ارب ڈالر رہے ہیں ایم ایف

پڑھیں:

بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔

بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور  اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا