تین سال پہلے جو ملک دنیا میں سفارتی سطح پر تنہا تھا اب دیکھیں کہاں کھڑا ہے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسکرین گریب
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ تین سال پہلے جو ملک دنیا میں سفارتی سطح پر تنہا تھا اب دیکھیں کہاں کھڑا ہے۔
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے دو تین ہفتوں میں تین وسطی ایشیائی ممالک کے دورے ہوں گے، سمجھ نہیں آتا اب کس ملک جائیں، کس کی میزبانی کریں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ معیشت کی بنیادوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے، معاشی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ معاشی بہتری کے لیے وہ طریقہ کار بننا چاہیے جو سیاسی تبدیلیوں سے متاثر نہ ہو، معاشی بحالی کے لیے ہم نے مشکل فیصلے کیے، سیاسی آسانیاں پس پشت ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ اب پالیسیوں پر عملدرآمد ہو رہا ہے، پی آئی اے کی نجکاری دو سال کی طویل محنت کے بعد ممکن ہوئی، پی آئی اے نجکاری سے ناصرف ایئرلائن بہتر ہوگی بلکہ معیشت پر اس کا بوجھ بھی کم ہو گیا۔
پاکستان اسرائیل کے صومالیہ پر اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہے، اسحاق ڈار
وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سرکلر ڈیٹ کی کمی کے لیے انرجی سیکٹر میں بہتری لا رہے ہیں، میں اپنے کاروباری دوستوں سے کہتا ہوں مایوس نہ ہوں، مئی 2023 میں کئی کاروباری دوستوں نے بلا کر کہا کہ کاروبار بند کر رہے ہیں، دوستوں نے 2023 میں کہا کہ 22 فیصد پالیسی ریٹ کے ساتھ کیا کاروبار کریں؟
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کہا کہ پاکستان کی استعداد کار بہت ہے، کون سوچ سکتا تھا کہ پاکستان کی گروتھ 6 اعشاریہ 3 فیصد پر آجائے گی، ابھی گوگل کر کے دیکھیں 2017 میں پاکستانی معیشت پر کیا کہا جا رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان 2017 میں ان 20 ملکوں میں تھا جو دنیا میں بڑی معاشی طاقتیں تھیں، 2022 میں پاکستان کی معیشت بدترین حالت میں تھی، مجھے ریسکیو کے لیے بلایا گیا، ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا ہے، اس حکومت کا معاشی روڈ میپ بہت واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سی پیک 2.
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ 19 فیصد ٹیرف ڈیل کر رہا ہے، حال ہی میں یورپی یونین کے وفد نے دورہ کیا، یورپی یونین وفد جی ایس پی پلس کی توثیق کے لیے غور کرے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ ڈیفنس معاہدہ کیا ہے، پاکستان کے ہر شہری کو سعودی عرب جان سے زیادہ عزیز ہے، پاکستان کی خوش قسمتی ہے دونوں مقدس مقامات کی حفاظت کی ذمے داری ملی۔
نائب وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کا بنگلادیش کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے، چین پاکستان اور بنگلادیشن کا ٹرائیلیٹرل سیٹ اپ ہے، افغانستان کے ساتھ بھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہا کہ پاکستان پاکستان کی اسحاق ڈار نے کہا کہ کا کہنا کے ساتھ تھا کہ کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔