پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے۔
مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کی تقریب وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔
وزیر اعظم شہباز شریف سے ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکا کے وفد کی ملاقات کی، ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ، چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔
وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف سے ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکا کے وفد نے ملاقات کی، وفد کی قیادت سی ای او زکری وِٹکوف نے کی۔
اسلام آباد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان.
وزیر اعظم شہباز شریف نے وفد کو ڈیجیٹل پاکستان کے وژن سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، شفافیت اور عوامی رسائی حکومت کی ترجیح ہے۔
ڈیجیٹل ادائیگیاں اور مالیاتی جدت ڈیجیٹل معیشت کا اہم حصہ ہیں، پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی عالمی دلچسپی خوش آئند ہے، پاکستان عالمی ڈیجیٹل فنانس کا حصہ بن رہا ہے۔
سی ای او ورلڈ لبرٹی فنانشل نے پاکستان میں محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگی نظام میں تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل کے سی ای او نے پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل فنانس میں مضبوط امیدوار قرار دیا۔
اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان، ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ مفاہمتی یادداشت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دستخط کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مفاہمتی یادداشت پر ورلڈ لبرٹی فنانشل اعظم شہباز شریف
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔