پاکستان اور مراکش کے درمیان مستقل دفاعی تعاون کا فریم ورک تیار
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پاکستان اور مراکش نے دفاعی تعاون کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنے اور فوجی تربیت کے شعبے میں اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک ادارہ جاتی دفاعی فریم ورک قائم کریں گے جو مستقبل میں مشترکہ دفاعی تعاون کی راہ ہموار کرے گا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا دورۂ مراکشخواجہ آصف 12 سے 14 جنوری تک 2 روزہ سرکاری دورے پر مراکش میں موجود ہیں، جہاں وہ مراکش کے وزیر مملکت برائے قومی دفاعی انتظامیہ عبداللطیف لوداعی سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ سال بھارت کے ساتھ مختصر تنازع کے بعد متعدد مسلم ممالک نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیں: وزیر دفاع کا دورہ مراکش: دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
دفاعی تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت متوقعوزیر دفاع کے مطابق ان کے دورے کے دوران پاکستان اور مراکش کے درمیان دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مستقل دفاعی روابط کے لیے ایک ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔
View this post on Instagram
A post shared by Khawaja Asif (@khawaja.
خواجہ آصف کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کے ذریعے فوجی تربیت، تجربات کے تبادلے، استعداد کار میں اضافے، اور دیگر مشترکہ دفاعی اقدامات کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مراکش میں وفود کی سطح پر مذاکرات کی بھی قیادت کریں گے جن میں باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔
پاکستان اور مراکش کے دیرینہ تعلقاتپاکستان اور مراکش کے درمیان دوستانہ اور مضبوط تعلقات قائم ہیں، جن میں سفارتی، دفاعی اور اقتصادی روابط شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات کو اعلیٰ سطحی دوروں اور دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے مزید تقویت ملتی رہی ہے۔
مشترکہ فوجی مشقیں اور فضائی تعاونگزشتہ سال اپریل میں پاکستان اور مراکش کی افواج نے مشترکہ دوطرفہ فوجی مشقوں کے تیسرے مرحلے کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد فوجیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اور دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانا تھا۔
یہ بھی پڑھیے جنگ آزمودہ جے ایف 17 تھنڈر: پاکستان کی دفاعی برآمدات میں بڑی پیشرفت، کون سے ممالک خریدار اور کون منتظر؟
اسی طرح نومبر 2024 میں مراکش کی فضائیہ کے انسپکٹر میجر جنرل محمد گادیہ نے پاکستان کے چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی تھی، جس میں ایرو اسپیس کے شعبے میں تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان مراکش تعلقات وزیر دفاع خواجہ محمد آصف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان مراکش تعلقات وزیر دفاع خواجہ محمد آصف پاکستان اور مراکش کے مفاہمتی یادداشت دفاعی تعاون وزیر دفاع خواجہ آصف کے درمیان کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین