بلدیاتی انتخابات حیلے بہانوں سے ٹالے جارہے ہیں، حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات پچھلے تین چار سالوں سے حیلے بہانوں سے ٹالے جارہے ہیں، بیوروکیسی تمام تر چیزوں کو لے کر چل رہی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد میں درخت کاٹنے کی مذمت کرتے ہیں، حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات کہنا کہ 40 ہزار درخت لگادیے بےوقوف بنانے والی بات ہے، یہ کیا بات ہوئی کہ آپ درخت کاٹ دیں اور اس کی جگہ چھوٹی چھوٹی ٹہنیاں لگادیں۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی حکومت کے آرڈیننس کو منسوخ ہونا چاہیے، 15 فروری کو الیکشن ہونا چاہیے۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ قومی ایئر لائن کے پاس 78 لینڈنگ رائٹ موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا بلدیاتی ایکٹ غیر جمہوری غیر آئینی ہے، پنجاب کے قانون میں ہے کہ یوسی چیئرمین بھی براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب نہیں ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ پنجاب میں غیر جماعتی الیکشن ہوگا، اس کے بعد یہ سینیٹ کی طرح منڈیاں لگائیں گے کہ لوگوں کو کسی پارٹی میں لے جائیں۔یہ اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ پنجاب کے بلدیاتی قانون کو تبدیل ہونا چاہیے، پنجاب میں جماعتی بنیادوں پر الیکشن کروایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نعیم الرحمان نے
پڑھیں:
لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
لاہور: (ویب ڈیسک) بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی، لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔
نجی ٹی وی چینل’’ دنیا نیوز‘‘ کے مطابق ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہور کی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی، فہرست کےمطابق لاہور کو 9 ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں، 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائے گا، تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست 2026 کو جاری ہوگی۔
مزید :