پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ، اہم قانون سازی متوقع
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20جنوری کو طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
وزارت پارلیمانی امور نے سمری ارسال کر دی، مشترکہ اجلاس 20جنوری صبع 10:30پر طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں اہم قانون سازی ہو گی۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس میں مجموعی طور پر 29 بل منظوری کے لیے پیش ہوں گے، 18نجی اور 11 حکومتی بل منظوری کے لیے پیش ہوں گے۔
ذرائع نے کہا کہ 24بل صدر کی منظوری کے بغیر واپس کئیے گئے جو مشترکہ اجلاس میں پیش ہوں گے، پانچ نئے بل اجلاس میں پیش کیئے جائیں گے۔
جنرنلسٹ پروٹیکشن بل، ڈومیسٹک وائلنس کا بل، مختلف جامعات کے نجی و سرکاری بل، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق میں ترمیم کا بل سمیت دیگر اہم بل شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مشترکہ اجلاس اجلاس میں
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔