بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے صدر آصف علی زرداری کو پاکستان اور بحرین کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز شیخ عیسیٰ بن سلمان آل خلیفہ فرسٹ کلاس پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف علی زرداری بحرین کا 3 روزہ سرکاری دورہ کریں گے، دفتر خارجہ

صدرِ مملکت آصف زرداری نے بدھ کے روز بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے قُدیبیہ پیلس میں ملاقات کی جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان پاکستان اور مملکتِ بحرین کے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے جامع بات چیت ہوئی۔

مذاکرات میں دوطرفہ تعاون کو عملی رفتار دینے اور تعلقات کو نئی وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

صدرِ مملکت کے ہمراہ خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور وزیر زراعت بلوچستان میر علی حسن زہری بھی موجود تھے۔

قصر میں آمد پر صدر زرداری کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور بحرین کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا۔ صدر مملکت نے قُدیبیہ پیلس کی وزیٹرز بک میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے۔

مزید پڑھیے: صدر زرداری کے حالیہ دورۂ چین نے دونوں ممالک کی دوستی کو نئے باب دیے، چینی سفیر

صدر زرداری اور شاہ بحرین کے درمیان پہلے انفرادی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور بحرین کے تعلقات کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ان کی مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

صدر مملکت نے اپنے اور وفد کے لیے پرتپاک استقبال اور غیر معمولی مہمان نوازی پر شاہ بحرین کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے لیے ان کی دیرینہ نیک خواہشات کو سراہا۔

انہوں نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے شاہ بحرین کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دہرائی۔

بعد ازاں ہونے والے تفصیلی اجلاس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عملی طریقوں پر غور کیا گیا۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان مضبوط سیاسی تعلقات کو بڑھتی ہوئی تجارت اور گہرے سرمایہ کاری روابط میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے بحرینی سرمایہ کاروں کو زراعت و غذائی تحفظ، آئی ٹی و ڈیجیٹل سروسز، صحت، سیاحت اور انفراسٹرکچر سمیت ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے کردار کو اجاگر کیا۔

مزید پڑھیں: صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز کا عالمی یومِ جمہوریت پر جمہوری اقدار کے فروغ پر زور

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان بحرین کو ایک اہم اقتصادی شراکت دار سمجھتا ہے اور قریبی تعاون سے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان کی اقتصادی صلاحیت، جغرافیائی رابطہ کاری اور ہنر مند افرادی قوت پر بھی روشنی ڈالی اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی۔

صدر زرداری نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو دو طرفہ تعلقات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔

علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ دنیا اس وقت غیر یقینی اور تیز رفتار تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے ایسے میں اقوام کو مشترکہ طور پر چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اتحاد، بردباری، دانشمندی اور تحمل کو ناگزیر قرار دیا۔

صدر زرداری نے بحرین میں مقیم پاکستانی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل قرار دیتے ہوئے بحرینی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ وہ مملکت میں مقیم ایک لاکھ 16 ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کو عزت، مواقع اور سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کے بحرین کی ترقی میں مثبت کردار کو بھی سراہا۔

انہوں نے اسلام آباد میں کنگ حمد یونیورسٹی برائے نرسنگ و الائیڈ میڈیکل سائنسز کے قیام کو شاہ بحرین کی جانب سے ایک قیمتی تحفہ قرار دیا اور اسے دونوں ممالک کی دوستی کی پائیدار علامت کہا۔

یہ بھی پڑھیے: صدر زرداری کی سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ سے ملاقات، خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام پر زور

دونوں رہنماؤں نے امن، استحکام اور کثیرالجہتی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر مسلم اُمہ سے متعلق امور پر مشترکہ کوششوں پر بھی اتفاق کیا گیا۔

صدر زرداری کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے پاکستان اور بحرین کو تاریخی، اسلامی اور برادرانہ رشتوں میں بندھے ممالک قرار دیا۔

انہوں نے صدر کے دورے کو دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ شاہ بحرین نے پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے عرب اور اسلامی دنیا کے مسائل کے لیے پاکستان کی حمایت اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

مزید پڑھیں: وفاقی وزرا کی صدر زرداری سے اہم ملاقات، پیپلز پارٹی اور ن لیگ بیان بازی روکنے پر متفق

اس موقعے پر پاکستان میں بحرین کے سفیر محمد ابراہیم عبدالقادر اور بحرین میں پاکستان کے سفیر ثاقب رؤف بھی موجود تھے جبکہ بحرینی وفد میں بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر شیخ محمد بن عیسیٰ آل خلیفہ اور وزیر خارجہ شیخ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی شامل تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ شیخ عیسیٰ بن سلمان آل خلیفہ ایوارڈ صدر زرداری کا دورہ بحرین صدر مملکت آصف علی زرداری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بحرین کے شاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ شیخ عیسی بن سلمان آل خلیفہ ایوارڈ صدر زرداری کا دورہ بحرین صدر مملکت ا صف علی زرداری شاہ حمد بن عیسی صدر مملکت نے پاکستان اور دونوں ممالک نے پاکستان شاہ بحرین اور بحرین کے درمیان کے عزم کا انہوں نے بحرین کے قرار دیا آل خلیفہ کے فروغ کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم