دھند میں جہازوں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کیلیے جدید سہولت ہونے کے باوجود پروازیں تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
لاہور:
علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شدید ترین دھند کے دوران جہازوں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے جدید انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم (ILS) کی سہولت موجود ہونے کے باوجود پی آئی اے سمیت ملکی اور غیر ملکی ایئر لائنز کی پروازیں نہ وقت پر لینڈ کر رہی ہیں اور نہ ہی روانہ ہو رہی ہیں، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایئر لائنز موسم بہتر ہونے اور دھند ختم ہونے کے بعد ہی لینڈنگ اور ٹیک آف کا سلسلہ شروع کرتی ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں کو کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متعدد مواقع پر پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ بعض پروازوں کو لاہور کے بجائے اسلام آباد یا دیگر ایئرپورٹس پر اتار لیا گیا۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 150 سے زائد پروازیں ایک سے 15 گھنٹے کی تاخیر کا شکار رہیں، جبکہ 12 سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں۔ اس صورتحال نے اندرون و بیرون ملک سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو شدید متاثر کیا۔
ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اربوں روپے کی لاگت سے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے، تاکہ خراب موسم اور شدید دھند میں بھی ملکی و غیر ملکی پروازیں محفوظ لینڈنگ اور ٹیک آف کر سکیں۔ تاہم ایئر لائنز کے اپنے قواعد و ضوابط اس عمل میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف ایئر لائنز نے اپنے پائلٹس کے لیے لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے الگ الگ حدِ نگاہ مقرر کر رکھی ہے۔ بعض ایئر لائنز 100 میٹر، کچھ 125 میٹر جبکہ چند 150 میٹر حدِ نگاہ پر ہی آپریشن کرتی ہیں، حالانکہ لاہور ایئرپورٹ پر 50 میٹر حدِ نگاہ میں بھی لینڈنگ اور ٹیک آف ممکن ہے۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پی آئی اے سمیت ملکی و غیر ملکی ایئر لائنز نے اپنی مقرر کردہ حدِ نگاہ کے بارے میں تحریری طور پر پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کو آگاہ کر رکھا ہے، جس کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولر انہی اصولوں کے تحت جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرتا ہے۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ پی آئی اے سمیت بعض ایئر لائنز کے جہاز انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم کے ساتھ مکمل مطابقت نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے سہولت موجود ہونے کے باوجود شدید دھند میں لینڈنگ اور ٹیک آف ممکن نہیں ہو پاتا۔ حالانکہ دھند شروع ہونے سے قبل تمام ایئر لائنز کو سسٹم کی دستیابی سے آگاہ بھی کیا جاتا ہے۔
علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روزانہ 50 سے 55 پروازیں روانہ اور لینڈ کرتی ہیں، جن کے ذریعے ہزاروں مسافر اندرون و بیرون ملک سفر کرتے ہیں۔ پروازوں کی تاخیر اور منسوخی کے باعث مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
اس حوالے سے ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر تمام ضروری سہولیات موجود ہیں اور ایئر لائنز کو مکمل آگاہی دی گئی ہے، تاہم بین الاقوامی سول ایوی ایشن قوانین کے تحت ہر ایئر لائن اپنی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے حدِ نگاہ مقرر کرتی ہے اور ایئر ٹریفک کنٹرول اسی کے مطابق پروازوں کو کلیئر کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ طریقہ کار دنیا بھر میں رائج ہے اور بلاوجہ تاخیر پر ایئر لائنز کے خلاف جرمانے سمیت دیگر قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جاتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی مسافروں کے مفادات اور ان کی محفوظ منزل تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے جدید، منظم اور مؤثر چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے تحت ایئرپورٹ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی لینڈنگ اور ٹیک آف ایئرپورٹ پر ایئر لائنز مسافروں کو کے مطابق ہونے کے کے لیے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ