فضائی روٹس بند،پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کا نیا نوٹم جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
سعید احمد:خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کی فضائی حدود میں کڑی نگرانی جاری ہے اور پاک فضائیہ نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
اسی سلسلے میں لاہور اور کراچی فلائٹ انفارمیشن ریجن کے سیکٹرز 14 اور 15 کو 14 اور 15 جنوری کو مخصوص اوقات کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان دنوں شام 7 بجے سے رات 10 بجے تک جنگی طیاروں کی مشقیں کی جائیں گی، جس کے دوران کمرشل پروازوں کے کپتانوں کو متبادل فضائی روٹس کے ذریعے طیارے اڑانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سرکاری محکموں میں پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر پابندی عائد
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (PAA) نے نیا NOTAM جاری کرتے ہوئے تمام کمرشل پروازوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور مخصوص فضائی روٹس کی جگہ متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔