میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام نے پیپلز پارٹی کو موقع دیا ہے اور اب شہر میں اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں دن رات ترقیاتی کام جاری ہیں اور مختلف رکے ہوئے منصوبوں کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔

میئر کراچی نے بتایا کہ آئندہ چند دنوں میں بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کراچی کے لیے ایک بڑا ترقیاتی پیکج متعارف کرایا جائے گا، جس سے شہری سہولتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور سندھ حکومت مل کر شہر کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہیں، جبکہ ٹاؤن انتظامیہ کو بھی اس عمل میں بھرپور تعاون کرنا ہوگا۔

مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیراتی کام مرحلہ وار مکمل کیے جا رہے ہیں تاکہ روزمرہ زندگی کم سے کم متاثر ہو۔

انہوں نے کہا کہ شہر کی تمام اہم شاہراہوں کو مرحلہ وار بہتر بنایا جائے گا۔ جہانگیر روڈ کی تعمیر و بحالی سے نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی بلکہ شہریوں کو آمد و رفت میں بھی سہولت ملے گی۔ ان کے مطابق جہانگیر روڈ کی بحالی کراچی کی مجموعی ترقیاتی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔

میئر کراچی کا کہنا تھا کہ اگر عوام اعتماد برقرار رکھیں تو آنے والے وقت میں کراچی میں مزید نمایاں تبدیلیاں نظر آئیں گی اور شہر کو ایک منظم، بہتر اور ترقی یافتہ شکل دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟