قومی پیغامِ امن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ آنے والا جمعہ ملک بھر میں ’پیغامِ امن‘ کے طور پر منایا جائے گا، جبکہ اس حوالے سے نمازِ جمعہ کے خطبات میں بھی امن، اتحاد اور دہشتگردی کے خلاف مؤقف اجاگر کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے علما کرام نے گورنر ہاؤس پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

مزید پڑھیں: قومی بیانیے کا فروغ، قومی پیغام امن کمیٹی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی

گورنر خیبرپختونخوا نے کمیٹی کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جبکہ عوام بھی اس عفریت سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوری قوم اس جنگ میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر علامہ طاہر اشرفی نے کہاکہ کمیٹی نے ملک گیر مہم کا آغاز پشاور سے کیا ہے کیونکہ خیبرپختونخوا دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پشاور کے بعد دیگر شہروں کا بھی دورہ کیا جائے گا۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہاکہ ’پیغامِ پاکستان‘ کی روشنی میں متفقہ فتویٰ پر امامِ کعبہ سمیت جید علما کے دستخط موجود ہیں اور خودکش دھماکوں کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ بھی پاکستانی علما نے دیا تھا۔ انہوں نے واضح کیاکہ بے گناہوں کا قتل اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور قوم امن کی خواہاں ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ پیغامِ امن کا وژن واضح ہے کہ ملک کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے مقابلے میں فوج کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا امن ان کے اپنے امن سے جڑا ہے، جبکہ افغانستان سے ہونے والے حملوں پر سنجیدہ عملدرآمد ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: قومی بیانیے کی تشکیل کے لیے پیغام امن کمیٹی قائم، کون کون شامل ہوگا؟

علامہ طاہر اشرفی نے کہاکہ آنے والا جمعہ ملک بھر میں پیغامِ امن کے طور پر منایا جائے گا اور پاکستان کی فوج اور قوم مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مدارس اور مساجد کبھی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوں گے۔

پریس کانفرنس میں موجود کمیٹی کے دیگر اراکین نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ملک میں امن کے قیام کے لیے ہر شہر جائیں گے، پاک فوج کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور دہشتگردی کے خلاف بھرپور آواز بلند کرتے رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اعلان پیغام امن قومی پیغام امن کمیٹی نماز جمعہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اعلان پیغام امن قومی پیغام امن کمیٹی وی نیوز پیغام امن کمیٹی قومی پیغام کمیٹی کے انہوں نے جائے گا کے خلاف

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف