ہنگامہ خیز احتجاج تھم گیا، حالات معمول کی طرف گامزن، تہران کا امریکا کو سخت پیغام
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
TEHRAN:
ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد احتجاجی لہر بالآخر تھم گئی ہے، جس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں حالات بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق احتجاج کے خاتمے کے بعد بین الاقوامی فون کالز بحال کر دی گئی ہیں، تاہم انٹرنیٹ سروس تاحال معطل ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی انسانی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 2403 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی حکام نے ان اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اصل صورتحال کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ایرانی انٹیلی جنس اداروں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کارروائیوں کے دوران مختلف گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، جسے بیرونی مداخلت کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی کوشش کی گئی تو ایران ہر سطح پر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیںمدد پہنچنے والی ہے، ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھال لو؛ ٹرمپ کا ایران کے مظاہرین کو پیغام
شرپسندوں کے گھروں سے امریکی ہتھیار اور دھماکا خیز مواد پکڑا گیا؛ ایران
ایران پر حملہ یا مذاکرات؟ وائٹ ہاؤس میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملک میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے جائز عوامی احتجاج کو تسلیم کیا تھا اور مظاہرین سے ریلیف پر بات چیت بھی جاری تھی، مگر ایک منظم سازش کے تحت مظاہروں کو پُرتشدد رخ دیا گیا تاکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مداخلت کا بہانہ فراہم کیا جا سکے۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک بیٹھے دہشت گرد ایجنٹوں کو ایران میں بدامنی پھیلانے کی ہدایات دی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے منصفانہ مذاکرات پر آمادہ ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔
جرمن چانسلر کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ برلن انسانی حقوق پر لیکچر دینے کا سب سے نامناسب مقام ہے۔
ان کے مطابق جرمنی وینزویلا کے صدر کے اغوا اور غزہ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت پر خاموش رہا، ایسے میں انسانی حقوق کی بات کرنا دوغلا پن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔