وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اڈیالہ جیل، زمان پارک یا پاکپتن کا پیر خانہ نہیں جہاں ہر ہفتے اہلِ خانہ اور چند کرائے کے لوگوں کے ساتھ تماشا لگایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کا کوئی عہدے دار تک نہیں پہنچتا۔

سماجی میڈیا ایکس پر عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، تاہم جب قانون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو پولیس کو حرکت میں آنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس کے ساتھ بدتمیزی اور ہاتھا پائی کی جائے تو کیا پولیس خاموش تماشائی بنی رہے؟

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ اپنے ہر گناہ کا الزام مریم نواز پر ڈالنا بند کیا جائے۔ اگر کسی لیڈر کی خاطر لوگ باہر نہیں نکلتے تو اس میں مریم نواز کا کیا قصور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو خود کو کبھی مقبول ترین سمجھتا تھا، اب وہ فضول ترین بن چکا ہے۔

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ آئیں اور قانون کا درس وہ لوگ دے رہے ہیں جو خود مطلق العنان بنتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے کارڈ کھیلنا بند کیے جائیں۔ ان کا واضح کہنا تھا کہ جس نے بھی قانون کو ہاتھ میں لیا ہے، وہ کٹہرے میں کھڑا ہوگا، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹو

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔

گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟

نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔

نواز شریف کی زیرصدارت پارلیمانی بورڈ اجلاس، جی بی الیکشن کے لیے امیدواروں پر مشاورت

اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔

اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔

ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا