کسی لیڈر کی خاطر لوگ باہر نہیں نکلتے تو اس میں مریم نواز کا کیا قصور ہے، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اڈیالہ جیل، زمان پارک یا پاکپتن کا پیر خانہ نہیں جہاں ہر ہفتے اہلِ خانہ اور چند کرائے کے لوگوں کے ساتھ تماشا لگایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کا کوئی عہدے دار تک نہیں پہنچتا۔
سماجی میڈیا ایکس پر عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، تاہم جب قانون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو پولیس کو حرکت میں آنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس کے ساتھ بدتمیزی اور ہاتھا پائی کی جائے تو کیا پولیس خاموش تماشائی بنی رہے؟
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ اپنے ہر گناہ کا الزام مریم نواز پر ڈالنا بند کیا جائے۔ اگر کسی لیڈر کی خاطر لوگ باہر نہیں نکلتے تو اس میں مریم نواز کا کیا قصور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو خود کو کبھی مقبول ترین سمجھتا تھا، اب وہ فضول ترین بن چکا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ آئیں اور قانون کا درس وہ لوگ دے رہے ہیں جو خود مطلق العنان بنتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے کارڈ کھیلنا بند کیے جائیں۔ ان کا واضح کہنا تھا کہ جس نے بھی قانون کو ہاتھ میں لیا ہے، وہ کٹہرے میں کھڑا ہوگا، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔