حکومت نے متبادل راستوں سے کینو اور آلو ایکسپورٹ کرنیکی اجازت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی کاوشوں کے نتیجے میں پنجاب کے کاشتکاروں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے. وفاقی حکومت نے متبادل راستوں کے ذریعے کینو اور آلو کی ایکسپورٹ کی اجازت دے دی ہے۔اس فیصلے سے نہ صرف کسانوں کو ریلیف ملے گا بلکہ ملکی زرمبادلہ میں اضافے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے آلو اور کینو کی برآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی تھی۔اس درخواست پر ڈپٹی وزیراعظم کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی، جس میں متعلقہ وفاقی وزارتوں اور تمام اہم سٹیک ہولڈرز کو نمائندگی دینے کی استدعا کی گئی ہے، تاکہ برآمدی عمل کو مزید مؤثر اور آسان بنایا جا سکے۔پنجاب حکومت نے وفاقی سطح پر اس بات پر زور دیا کہ آلو اور کینو کی ایکسپورٹ کے لیے نئی بین الاقوامی منڈیوں کی تلاش کی جائے اور برآمدی اخراجات میں کمی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے حصول اور کسانوں کو بروقت فائدہ پہنچانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مسائل حل کیے جا رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب آلو اور کینو کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 95 فیصد پیدا کرتا ہے۔ رواں سال پنجاب میں آلو کی پیداوار 12 ملین ٹن جبکہ کینو کی پیداوار 4 ملین ٹن تک متوقع ہے، جس کے باعث برآمدات کے وسیع مواقع موجود ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا ہے کہ آلو اور کینو کے کاشتکاروں کی محنت کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم سے مسلسل رابطے میں ہیں۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اس مقصد کے لیے کھلے دل سے وسائل مہیا کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق آلو اور کینو کی ایکسپورٹ میں بہتری سے نہ صرف کسان مستحکم ہوں گے بلکہ صوبے اور ملک کی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: آلو اور کینو کی حکومت نے کے لیے
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔