پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں نئی محاذ آرائی کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
موجودہ حکومت کا قیام پیپلزپارٹی کے ن لیگ کے ساتھ اتحاد کے بعد ممکن ہوا تھا البتہ پیپلزپارٹی نے کوئی بھی وزارت قبول نہیں کی تھی، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان سیلاب متاثرین کی امداد کے طریقہ کار پر تنازع کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت پر تنقید کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا پنجاب کی بیوروکریسی پر بھی تنازع رہ چکا ہے، 2 روز قبل بھی پیپلزپارٹی نے صدر مملکت آصف زرداری کے دستخطوں کے بغیر اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس 2026 جاری کرنے پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی کشیدگی: مریم نواز کے بیان پر پیپلز پارٹی کا سینیٹ اجلاس سے پھر واک آؤٹ
پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور لاہور بہاولنگر موٹروے کے 465 ارب روپے کے منصوبے کو وفاقی تحویل میں لینے پر تنقیدکی گئی ہے، پی پی پی نے اس فیصلے کو مالیاتی قواعد کی خلاف ورزی اور صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔
پیپلزپارٹی اراکین اسمبلی نوید قمر، شرمیلا فاروقی اور دیگر ارکان کی جانب سے قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے اس خدشہ ظاہر کیا کہ اس منصوبے کے لیے وسائل کی فراہمی سے قومی سطح کے اہم ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
Govt on the back foot: PM withdraws ordinance, issued without consent of the President !!
The PPP had staged walkout from the National Assembly.
— Ansar M Bhatti (@AnsarMBhatti) January 12, 2026
نوید قمر نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک صوبائی موٹروے منصوبے کو وفاقی بنانا سمجھ سے بالاتر ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب یہ منصوبہ صوبے کی حدود میں ہے تو اسے وفاقی سطح پر کیوں منتقل کیا گیا، ایسے منصوبے صوبائی حکومتیں بہتر طور پر سنبھال سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کو انفرا اسٹرکچر منصوبے بنانے ہیں تو انہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جانا چاہیے، جیسا کہ سندھ میں کیا جا رہا ہے، اگر سندھ میں یہ ماڈل کامیاب ہے تو پنجاب میں کیوں نہیں؟
مزید پڑھیں: ’ہم پاکستان کھپے کا نعرہ لگانے والے لوگ ہیں‘: پیپلز پارٹی کا سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی واک آؤٹ
پی پی پی کی رہنما ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے بھی الزام لگایا کہ حکومت نے صوبائی رضامندی کے بغیر اس منصوبے کو پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں شامل کیا، جو مالیاتی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے 25 کھرب روپے کے تھرو فارورڈ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی منصوبے کو پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لیے صوبے کی کم از کم 50 فیصد مالی شراکت ضروری ہوتی ہے، جو اس کیس میں موجود نہیں۔
مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے پارلیمان کے اجلاس سے کیوں واک آؤٹ کیا؟
اس معاملے پر وزیر مملکت برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات چوہدری ارمغان سبحانی نے ایوان کو بتایا کہ لاہور تا بہاولنگر موٹروے منصوبے کے لیے پی ایس ڈی پی سے کوئی فنڈز منتقل نہیں کیے گئے ہیں، حکومت سکھر تا حیدرآباد موٹروے کو ترجیح دے رہی ہے اور یہ منصوبہ آئندہ پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائے گا۔
ان کا مؤقف تھا کہ سکھر تا حیدرآباد موٹروے 5 حصوں پر مشتمل ہے اور اسے تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا، جبکہ موٹرویز کی تعمیر مسلم لیگ (ن) کی پہچان رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا
قومی اسمبلی کے اسپیکر نے معاملہ مزید غور و خوض کے لیے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ پینل کے سپرد کر دیا۔
واضح رہے کہ 2 روز قبل پیپلزپارٹی نے صدر مملکت آصف زرداری کے دستخطوں کے بغیر اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس 2026 جاری کرنے پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کردیا تھا، قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا، تاہم اس دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ انہیں اس عمل سے روکتے رہے۔
مزید پڑھیں:
نوید قمر نے کہا تھا کہ قانون سازی اس ایوان کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن پہلی مرتبہ حکومت نے ایک ایسا آرڈیننس نافذ کر دیا جو صدر کی توثیق کے بغیر ہے،اس قانون کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اس صورتحال میں وہ ایوان کا حصہ نہیں رہیں گے۔
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کے ارکان سوشل میڈیا پر چلنے والی باتوں کو سیریس لینے کے بجائے میری بات سن لیں، انہوں نے واضح کیاکہ حکومت صدر کی توثیق کے بغیر آرڈیننس کو نوٹیفائی نہیں کرے گی، بعد ازاں حکومت کی جانب سے یہ آرڈیننس واپس لے لیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرڈیننس آصف زرداری اعظم نذیر تارڑ بہاولنگر پی ایس ڈی پی پیپلز پارٹی توجہ دلاؤ نوٹس چوہدری ارمغان سبحانی سوشل میڈیا شرمیلا فاروقی قومی اسمبلی لاہور مسلم لیگ ن موٹروے نوید قمر واک آؤٹ وزیر قانون
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آرڈیننس اعظم نذیر تارڑ بہاولنگر پی ایس ڈی پی پیپلز پارٹی توجہ دلاؤ نوٹس چوہدری ارمغان سبحانی سوشل میڈیا شرمیلا فاروقی قومی اسمبلی لاہور مسلم لیگ ن موٹروے نوید قمر واک ا ؤٹ پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی پیپلز پارٹی پی ایس ڈی پی مزید پڑھیں منصوبے کو پارٹی نے نوید قمر انہوں نے واک ا ؤٹ کے بغیر کے لیے
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔