WE News:
2026-07-24@06:07:44 GMT

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں نئی محاذ آرائی کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

موجودہ حکومت کا قیام پیپلزپارٹی کے ن لیگ کے ساتھ اتحاد کے بعد ممکن ہوا تھا البتہ پیپلزپارٹی نے کوئی بھی وزارت قبول نہیں کی تھی، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان سیلاب متاثرین کی امداد کے طریقہ کار پر تنازع کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت پر تنقید کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا پنجاب کی بیوروکریسی پر بھی تنازع رہ چکا ہے، 2 روز قبل بھی پیپلزپارٹی نے صدر مملکت آصف زرداری کے دستخطوں کے بغیر اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس 2026 جاری کرنے پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سیاسی کشیدگی: مریم نواز کے بیان پر پیپلز پارٹی کا سینیٹ اجلاس سے پھر واک آؤٹ

پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور لاہور بہاولنگر موٹروے کے 465 ارب روپے کے منصوبے کو وفاقی تحویل میں لینے پر تنقیدکی گئی ہے، پی پی پی نے اس فیصلے کو مالیاتی قواعد کی خلاف ورزی اور صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔

پیپلزپارٹی اراکین اسمبلی نوید قمر، شرمیلا فاروقی اور دیگر ارکان کی جانب سے قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے اس خدشہ ظاہر کیا کہ اس منصوبے کے لیے وسائل کی فراہمی سے قومی سطح کے اہم ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔

Govt on the back foot: PM withdraws ordinance, issued without consent of the President !!
The PPP had staged walkout from the National Assembly.

pic.twitter.com/Jhzxt44DX7

— Ansar M Bhatti (@AnsarMBhatti) January 12, 2026

نوید قمر نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک صوبائی موٹروے منصوبے کو وفاقی بنانا سمجھ سے بالاتر ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب یہ منصوبہ صوبے کی حدود میں ہے تو اسے وفاقی سطح پر کیوں منتقل کیا گیا، ایسے منصوبے صوبائی حکومتیں بہتر طور پر سنبھال سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کو انفرا اسٹرکچر منصوبے بنانے ہیں تو انہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جانا چاہیے، جیسا کہ سندھ میں کیا جا رہا ہے، اگر سندھ میں یہ ماڈل کامیاب ہے تو پنجاب میں کیوں نہیں؟

مزید پڑھیں: ’ہم پاکستان کھپے کا نعرہ لگانے والے لوگ ہیں‘: پیپلز پارٹی کا سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی واک آؤٹ

پی پی پی کی رہنما ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے بھی الزام لگایا کہ حکومت نے صوبائی رضامندی کے بغیر اس منصوبے کو پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں شامل کیا، جو مالیاتی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے 25 کھرب روپے کے تھرو فارورڈ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی منصوبے کو پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لیے صوبے کی کم از کم 50 فیصد مالی شراکت ضروری ہوتی ہے، جو اس کیس میں موجود نہیں۔

مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے پارلیمان کے اجلاس سے کیوں واک آؤٹ کیا؟

اس معاملے پر وزیر مملکت برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات چوہدری ارمغان سبحانی نے ایوان کو بتایا کہ لاہور تا بہاولنگر موٹروے منصوبے کے لیے پی ایس ڈی پی سے کوئی فنڈز منتقل نہیں کیے گئے ہیں، حکومت سکھر تا حیدرآباد موٹروے کو ترجیح دے رہی ہے اور یہ منصوبہ آئندہ پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائے گا۔

ان کا مؤقف تھا کہ سکھر تا حیدرآباد موٹروے 5 حصوں پر مشتمل ہے اور اسے تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا، جبکہ موٹرویز کی تعمیر مسلم لیگ (ن) کی پہچان رہی ہے۔

مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

قومی اسمبلی کے اسپیکر نے معاملہ مزید غور و خوض کے لیے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ پینل کے سپرد کر دیا۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل پیپلزپارٹی نے صدر مملکت آصف زرداری کے دستخطوں کے بغیر اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس 2026 جاری کرنے پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کردیا تھا، قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا، تاہم اس دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ انہیں اس عمل سے روکتے رہے۔

مزید پڑھیں:

نوید قمر نے کہا تھا کہ قانون سازی اس ایوان کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن پہلی مرتبہ حکومت نے ایک ایسا آرڈیننس نافذ کر دیا جو صدر کی توثیق کے بغیر ہے،اس قانون کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اس صورتحال میں وہ ایوان کا حصہ نہیں رہیں گے۔

اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کے ارکان سوشل میڈیا پر چلنے والی باتوں کو سیریس لینے کے بجائے میری بات سن لیں، انہوں نے واضح کیاکہ حکومت صدر کی توثیق کے بغیر آرڈیننس کو نوٹیفائی نہیں کرے گی، بعد ازاں حکومت کی جانب سے یہ آرڈیننس واپس لے لیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرڈیننس آصف زرداری اعظم نذیر تارڑ بہاولنگر پی ایس ڈی پی پیپلز پارٹی توجہ دلاؤ نوٹس چوہدری ارمغان سبحانی سوشل میڈیا شرمیلا فاروقی قومی اسمبلی لاہور مسلم لیگ ن موٹروے نوید قمر واک آؤٹ وزیر قانون

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آرڈیننس اعظم نذیر تارڑ بہاولنگر پی ایس ڈی پی پیپلز پارٹی توجہ دلاؤ نوٹس چوہدری ارمغان سبحانی سوشل میڈیا شرمیلا فاروقی قومی اسمبلی لاہور مسلم لیگ ن موٹروے نوید قمر واک ا ؤٹ پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی پیپلز پارٹی پی ایس ڈی پی مزید پڑھیں منصوبے کو پارٹی نے نوید قمر انہوں نے واک ا ؤٹ کے بغیر کے لیے

پڑھیں:

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

 وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن