Jasarat News:
2026-07-24@15:07:49 GMT

بھارت،حریت رہنما آسیہ اندرابی مجرم قرار

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی:ہندوتوا مودی سرکار نے عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کا بھی جینا حرام کررکھا ہے۔

 دہلی کی ایک عدالت نے بدھ کو مقبوضہ کشمیر کی حریت رہنما اورتنظیم ”دختران ملت“ کی سربراہ آسیہ اندرابی کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دے دیا۔ اندرابی کو سزا 17جنوری کو سنائی جائے گی۔

ایڈیشنل سیشن جج چندرجیت سنگھ نے خاتون لیڈر آسیہ اندرابی کو یو اے پی اے کی دفعہ 18 (سازش کی سزا) اور دفعہ 38 (دہشت گرد تنظیم کی رکنیت سے متعلق جرم) کے تحت قصوروار ٹھہرایا۔ وہیں اس کیس میں کورٹ حتمی سزا 17 جنوری کو سنائے گی۔

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے آسیہ اندرابی کے خلاف ”بھارت کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے جنگ چھیڑنے“ اور ”مجرمانہ سازش“ کے تحت یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ اس کیس میں اندرابی کی 2دیگر خاتون ساتھی بھی ملزم ہیں۔

آسیہ اندرابی نے نے 1987 میں خواتین پر مشتمل تنظیم دختران ملت (ڈی ای ایم) کی بنیاد رکھی تھی۔

انہیں اپریل 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں جے کے ایل ایف، جماعت اسلامی سمیت کشمیر کی دیگرمسلم تنظیموں کی طرح دختران ملت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

آسیہ اندرابی کے شوہر عاشق حسین فکتو جو ڈاکٹر قاسم کے نام سے معروف ہے، بھی گزشتہ تین دہائیوں سے جیل میں ہیں۔

 فکتو کو سال 2003میں ایک کشمیری پنڈت رائٹس کے کارکن ہریدے ناتھ وانچو کے 1992میں قتل کیس میں مجرم قرار دیکر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

 انہوں نے ہائی کورٹ میں رہائی کے لیے عرضی دائر کی تھی جس میں انہوں نے بیس سال سے زاید عرصہ گزارنے کی دلیل دی تھی، تاہم کورٹ نے ان کی عرضی مسترد کر کے عمر قید کو ’تا حیات‘ سے تعبیر کیا تھا۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آسیہ اندرابی

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس