سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت لانا ہوگی، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت لانا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:جی ایس پی پلس اسٹیٹس برقرار رکھنے کے لیے حکومتی پالیسیوں کا مکمل نفاذ کیا جائے، اسحاق ڈار کی ہدایت
وفاقی دارالحکومت میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں معیشت کی بہتری کے لیے اہم اقدامات جاری ہیں اور معاشی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معیشتی اصلاحات کے ایجنڈے پر مکمل طور پر گامزن ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، جس سے قومی خزانے پر مالی بوجھ کم ہوگا اور ایئرلائن جدید خطوط پر استوار ہوگی۔ نجکاری کے اس عمل سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
Deputy PM Ishaq Dar addressed Pakistan Policy Dialouge, highlighted ongoing reforms under PM Shehbaz, including PIA privatization, energy sector efficiency, macroeconomic stability, and strengthened Pakistan-China cooperation through CPEC 2.
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) January 14, 2026
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، اور شفافیت و مؤثر کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ضروری مگر مشکل اصلاحات واضح مقصد اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ ان اصلاحات میں سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری، سرکلر قرضے میں کمی، حکومت کا مناسب سائز اور ڈیجیٹل گورننس شامل ہیں، جن کے مثبت اثرات موجودہ اکاؤنٹ سرپلس، مہنگائی میں کمی، مضبوط ریونیو اور سرمایہ کاری میں اعتماد کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جامع مشاورتی عمل سے پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول جلد ممکن ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف
نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جیو اکنامکس پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ چین کے ساتھ سی پیک اور امریکا، یورپ، خلیج اور وسطی ایشیا کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی توسیع ملک میں تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھا رہی ہے، جبکہ مشرقی ایشیا اور افریقہ میں نئے مواقع بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلا مرحلہ اصلاحات کو حقیقی نتائج میں بدلنے اور تمام پاکستانیوں کے لیے شمولیتی خوشحالی یقینی بنانے کا ہونا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسحاق ڈار پالیسی ڈائیلاگ سیاسی مفادات نائب وزیراعظم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار پالیسی ڈائیلاگ سیاسی مفادات اسحاق ڈار کہا کہ نے کہا کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔