افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے جامع نظام کی سفارشات مرتب کی جائیں، وزیراعظم کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ وفاقی سیکریٹریز سمیت افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر نظام کی سفارشات مرتب کی جائیں۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت مجوزہ سول سروسز اصلاحات اور وزارتوں میں کارکردگی کی جانچ کے نظام سے متعلق سفارشات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان کو آفت زدہ قرار دیا جائے، وزیراعلیٰ حاجی گلبر کا امداد کے لیے وزیراعظم پاکستان کو خط
اجلاس میں سول سروس میں اصلاحات کی پیشرفت اور افسران کی کارکردگی جانچنے کے نظام پر تفصیلی غور کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہاکہ ملکی سول سروس کو بین الاقوامی معیار اور عالمی سطح کی کارکردگی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی سیکریٹریز سمیت افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک جامع اور موثر نظام کی سفارشات مرتب کی جائیں، تاکہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی تحسین ممکن ہو اور اس کے ذریعے سول سروس کی مجموعی بہتری کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیراعظم نے متعلقہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ ملکی سول سروس میں ارتقائی مگر موثر اور جامع اصلاحاتی سفارشات جلد از جلد مرتب کی جائیں۔
انہوں نے زور دیا کہ افسران کی کارکردگی کی جامع جانچ کی بنیاد پر ترقی، مالی فوائد اور دیگر سہولیات کے نظام سے متعلق واضح سفارشات تیار کی جائیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ سول سروس میں اصلاحات کا بنیادی مقصد موثر عوامی خدمت اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے ذریعے عوام کی زندگی میں واضح بہتری لانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی معاشی آسودگی اور سماجی ہم آہنگی کے حصول کے لیے ہمہ جہت سول سروس اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مجوزہ سول سروس اصلاحات کی تیاری میں سول انتظامیہ، تمام سروسز اور گروپس کے اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کی جائے۔
انہوں نے کہاکہ سول سروس کسی بھی ملک کی گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کا بنیادی ڈھانچہ ہوتی ہے، اس لیے افسران کی کارکردگی اور قابلیت کو دورِ حاضر کے عصری تقاضوں اور عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے خصوصی سفارشات مرتب کی جائیں۔
وزیراعظم نے سول سروسز اصلاحات کے لیے قائم کمیٹی کو ہدایت دی کہ ایسی سفارشات پیش کی جائیں جو قابلِ عمل، دیرپا اور موثر عوامی سہولت کا باعث بن سکیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کی اصلاحاتی اور عوامی فلاح و بہبود پر مبنی پالیسیوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے میں سول سروس کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: 34.
اجلاس میں سول سروسز اصلاحات پر قائم کمیٹی نے وزیراعظم کو اب تک کی مشاورت اور تیار کردہ سفارشات پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور دیگر نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افسران شہباز شریف کارکردگی وزیراعظم پاکستان وفاقی سیکریٹریز وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افسران شہباز شریف کارکردگی وزیراعظم پاکستان وفاقی سیکریٹریز وی نیوز افسران کی کارکردگی جانچنے کے سفارشات مرتب کی جائیں وزیراعظم پاکستان وفاقی وزیر شہباز شریف انہوں نے ہدایت کی سول سروس میں سول کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔